رسائی کے لنکس

پاکستان کے قبائلی خطے شمالی وزیرستان میں سرگرم طالبان جنگجوؤں نے اس علاقے میں انسداد پولیو کی مہم کو امریکی ڈرون حملوں کی بندش سے مشروط کر دیا ہے۔

یہ اعلان مقامی طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کی جانب سے کیا گیا ہے، جس نے پاکستان سکیورٹی فورسز پر حملے نا کرنے کے سلسلے میں حکومت کے ساتھ مبینہ طور پر امن معاہدہ بھی کر رکھا ہے۔

’’شوریٰ مجاہدین کے مسئول حافظ گل بہادر نے اپنی شوریٰ کے مشورے سے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وزیرستان میں جب تک ڈرون حملوں کا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا اُس وقت تک پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی ہوگی۔‘‘

شمالی وزیرستان کے انتظامی مرکز میران شاہ میں تقسیم کیے گئے پمفلٹس میں امریکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایسے ’’خیر خواہوں‘‘ کا کیا فائدہ جو ایک جانب انسداد پولیو پر اربوں روپے خرچ کریں اور دوسری جانب ’’غلام‘‘ کی مدد سے ڈرون حملے کریں، جن میں خواتین اور بچوں سمیت سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

’’ڈرون (جہازوں) کی دن رات پروازوں کے سبب تقریباً ہر وزیرستانی یا تو ذہنی مریض بن چکا ہے یا بن رہا ہے، جو پولیو سے بھی خطرناک صورت حال ہے۔‘‘

پمفلٹ میں اُسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد کے لیے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے کہنے پر جعلی انسداد پولیو مہم چلانے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’’نیز (انسداد) پولیو مہمات میں مجاہدین کے خلاف امریکہ کے لیے جاسوسی کرنے کا بھی قوی احتمال ہے۔‘‘

مقامی قبائل کو اس فیصلے پر سختی سے عمل کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

’’خلاف ورزی کی صورت میں نقصان کی شکایت کا حق کسی کو بھی حاصل نہیں ہوگا۔‘‘

اطلاعات کے مطابق انسداد پولیو مہم سے منسلک حکام نے متنبہ کیا ہے کہ اس پابندی کے باعث پانچ سال سے کم عمر تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار بچوں کا پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم رہنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان دنیا کے اُن تین ممالک میں سے ایک ہے جہاں جسمانی معذوری کا سبب بننے والا پولیو وائرس اب بھی موجود ہے، افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں بھی یہ وائرس نشونما پا رہا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے انسداد پولیو کی بھرپور مہم کا آغاز کر رکھا ہے اور قبائلی علاقوں میں فوج کی مدد سے یہ مہم چلائی جا رہی ہے، لیکن شورش کے باعث پولیو ٹیموں کی کئی علاقوں تک رسائی ناممکن ہے۔

XS
SM
MD
LG