رسائی کے لنکس

انسداد پولیو مہم میں افغانستان بھی تعاون کر رہا ہے: پاکستانی عہدیدار


فائل فوٹو
فائل فوٹو

ڈاکٹر سیف الرحمٰن کے بقول اس خطرے سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک نے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔

بلوچستان میں انسداد پولیو مرکز کے ’رابطہ کار‘ ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے تعاون کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے بتایا کہ بلوچستان کے کئی اضلاع بشمول چاغی، نوشکی، قلعہ عبداللہ، قلع سیف اللہ، پشین اور ژوب کی سرحدیں افغانستان سے ملتی ہیں۔

اُن کے بقول پاکستان اور افغانستان کے سرحدی اضلاع میں بسنے والے لوگ روزانہ بڑی تعداد میں ایک سے دوسری جانب سفر کرتے ہیں، جس سے پولیو وائرس منتقل ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر سیف الرحمٰن کے بقول اس خطرے سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک نے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا تھا۔

’’ہم نے ایک مربوط نظام تشکیل دیا اس میں ہم ہر ہفتے ٹیلی فون پر بات کرتے ہیں اور ہر مہینے ہم ضلعی سطح پر میٹنگ کرتے ہیں اور ہر تین مہینے بعد ہم صوبائی سطح پر میٹنگ کرتے ہیں اور ہر چھ مہینے پر ہم قومی سطح پر ملتے ہیں، جس میں ہم اپنی کارکردگی بتاتے ہیں۔‘‘

اُن کہنا تھا کہ انسداد پولیو کی مہم اُسی صورت کامیاب ہو سکتی ہے جب دونوں ممالک بیک وقت اس مرض کے خلاف نا صرف مہم چلائیں بلکہ ایک دوسرے سے مکمل تعاون بھی کریں۔

پاکستان میں خاص طور پر بلوچستان کے بعض علاقوں میں انسداد پولیو مہم کی راہ ایک بڑی رکاوٹ والدین کی طرف سے بچوں کو اس مرض سے بچاؤں کے قطرے پلانے سے انکار ہے۔

ڈاکٹر سیف الرحمٰن نے بتایا کہ ایسے والدین جو اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکاری ہیں اُنھیں قائل کرنے کے لیے علما دین پر مشتمل ٹاسک فورس بھی بنائی گئی ہے۔

’’ہم نے ایک پورا ڈیٹابیس بنایا کہ وہ والدین جو انکاری تھے اُن کے نام، اُن کا جو قبیلہ ہے وہ کہاں رہتے ہیں کیا کام کرتے ہیں یہاں تک کہ ہم نے اُن کے موبائل فون نمبر بھی لیے ۔۔۔ ان میں سے تقریباً 98 فیصد لوگ مان گئے اور جو نہیں مانے تو ہم نے اُن کی تفصیلات ڈپٹی کمشنر صاحبان کو دیں تاکہ وہ اپنے انداز میں اس کو دیکھیں۔‘‘

واضح رہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں انسداد پولیو کی مہم پیر سے شروع ہوئی۔

اس وقت دنیا میں صرف پاکستان اور افغانستان دو ہی ایسے ممالک ہیں جہاں سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا ہے۔

اسی تناظر میں دنوں ملکوں نے بچوں کو اپاہج کرنے والے اس وائرس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کر رہے ہیں۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں انسداد پولیو مہم میں تیزی آئی ہے، خاص طور پر اُن قبائلی علاقوں میں بچوں تک انسداد پولیو کی ٹیموں کی رسائی ممکن ہوئی جہاں ماضی میں سلامتی کے خدشات کے باعث ایسی مہمات چلانا ممکن نہیں تھا۔

حکام اس عزم کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ اس سال پولیو وائرس کے خاتمے کی جانب اہم پیش رفت ہو گی۔

XS
SM
MD
LG