رسائی کے لنکس

مانسہرہ: انسداد پولیو ٹیم پر فائرنگ، دو افراد ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

اطلاعات کے مطابق مانسہرہ میں شیخ آباد کے علاقے میں انسدادِ پولیو ٹیم میں شامل رضا کار خواتین گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف تھیں کہ مسلح افراد نے خود کار ہتھیاروں سے اُن پر فائرنگ کر دی۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے پہاڑی ضلع مانسہرہ میں منگل کو انسداد پولیو کی ٹیم پر نا معلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک لیڈی ہیلتھ ورکر اور ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گیا۔

مقامی پولیس کے مطابق فائرنگ سے انسداد پولیو ٹیم میں شامل ایک خاتون رضا کار بھی زخمی ہوئیں جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مانسہرہ میں شیخ آباد کے علاقے میں انسدادِ پولیو ٹیم میں شامل رضا کار خواتین گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے میں مصروف تھیں کہ مسلح افراد نے خود کار ہتھیاروں سے اُن پر فائرنگ کر دی۔

واضح رہے کہ تیسری ملک گیر انسداد پولیو مہم پیر ہی سے شروع ہوئی تھی جس کے تحت پاکستان بھر میں لگ بھگ ساڑھے تین کروڑ بچوں کو پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلائے جانے ہیں۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں 2012ء سے انسداد پولیو ٹیموں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں جن میں خواتین رضا کاروں اور اُن کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں سمیت لگ بھگ 70 افراد مارے جا چکے ہیں۔

پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر ایسے ہی حملوں کی وجہ سے اس وائرس کے خاتمے کے لیے چلائی جانے والی مہمات متاثر ہوتی رہی ہیں۔

پاکستان کا شمار دنیا کے اُن کے تین ممالک میں ہوتا ہے جہاں سے پولیو وائرس کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ دیگر دو ممالک میں افغانستان اور نائیجیریا شامل ہیں تاہم وہاں اس وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد پاکستان کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔

اس سال اب تک پاکستان میں پولیو وائرس سے 23 بچے متاثر ہو چکے ہیں، گزشتہ سال ملک میں اس وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی تھی۔

پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ ملک کے قبائلی علاقوں میں حالیہ مہینوں میں سلامتی کی صورت حال میں بہتری کے بعد وہاں بچوں کو اس وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی وجہ سے اس سال ماضی کے مقابلے میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد نسبتاً کم رہی ہے۔

موجودہ حکومت کی طرف سے انسداد پولیو کی کوششوں کو موثر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے جن میں مذہبی شخصیات سے مدد کا حصول بھی شامل ہے جب کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو کی گزشتہ مہم کے دوران اپنے بچوں کو اس وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کے خلاف پولیس کی جانب سے غیر معمولی کارروائی کرتے ہوئے لگ بھگ 470 افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG