رسائی کے لنکس

انسداد پولیو مہم میں خواتین رضاکاروں کی شمولیت غیر یقینی


(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو کی مہم کے سینیئر اہلکار جانباز آفریدی نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر چند اضلاع میں پیر کو شروع ہونے والی مہم معطل بھی کی جاسکتی ہے۔

پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ اور اس سے ملحقہ قبائلی علاقوں میں پیر سے شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم میں حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر خواتین کارکنوں کو بیشتر اضلاع میں حصہ لینے سے روک دیا گیا۔

شدت پسندوں نے رواں ماہ خیبر پختونخواہ اور کراچی میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر حملے کیے جس میں خواتین رضاکاروں سمیت مہم سے وابستہ نو افراد ہلاک ہوئے۔

افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے مہمند میں اس مہم کے سربراہ ڈاکٹر شبیر احمد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چار روزہ مہم میں تقریباً 360 ٹیمیں شرکت کریں گی جنہیں مقامی انتظامیہ سکیورٹی فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر ٹیم کے ساتھ مقامی پولیس کا اہلکار تعینات ہوگا۔ تاہم ان سکیورٹی کے انتظامات کے باوجود شبیر احمد کا کہنا تھا کہ خواتین کو اس مہم میں شامل نہیں کیا گیا۔

’’ان کے دلوں میں ملحقہ علاقوں میں جو واقعات ہوئے ان کا خوف ہے اس لیے وہ اس مہم میں شامل نہیں۔‘‘

انتہا پسند اور شدت پسند عناصر خواتین کے کام کرنے کو غیر اسلامی جبکہ انسداد پولیو کی مہم کو خاندانی منصوبہ بندی کی غیر ملکی سازش قرار دیتے ہیں اور اسی بنیاد پر اس مہم کو نشانہ بناتے چلے آرہے ہیں۔

افغانستان اور نائیجریا کے علاوہ پاکستان دنیا کا تیسرا ملک جہاں بچوں کو اپاہج کرنے والے موذی مرض پولیو کا جرثومہ پایا جاتا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو کی مہم کے سینیئر اہلکار جانباز آفریدی نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر چند اضلاع میں پیر کو شروع ہونے والی مہم معطل بھی کی جاسکتی ہے۔

وزیر اعظم کی معاون خصوصی شہناز وزیر علی کہتی ہیں کہ موثر سکیورٹی کے انتظامات کے بغیر کسی خاتون رضا کار کو مہم میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں پولیو کے خلاف مہم کو کسی صورت روکا نہیں جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس مہم کو نسل کشی کی سازش یا غیر اسلامی کہتے ہیں تو وہ پھر ’’جب حرم جاتے ہیں تو پہلے کیوں یہ دو قطرے لیتے ہیں اور سعودی عرب نے بھی اپنے ہاں پولیو اسی مہم کے ذریعے ختم کی ہے۔‘‘

شہناز وزیر علی کہتی ہیں کہ پاکستان میں اس سال پولیو کے 57 کیسز سامنے آئے ہیں اور اگر علماء اور پاکستانی عوام پولیو مہم میں تعاون کریں تو آئندہ سال تک ملک کو اس مرض سے پاک کیا جاسکتا ہے۔
XS
SM
MD
LG