رسائی کے لنکس

پاکستان: پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ


پولیو سے متاثرہ بچے (فائل فوٹو)

پولیو سے متاثرہ بچے (فائل فوٹو)

پاکستان میں اس سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 202 ہو گئی ہے، اس سے قبل 2001ء میں پاکستان میں 199 بچے پولیو سے متاثر ہوئے تھے۔

پاکستان میں اس سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد 202 ہو گئی ہے جو گزشتہ 14 سالوں کے دوران ملک میں اس وائرس سے کسی ایک سال کے دوران متاثر ہونے والے بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

قومی ادارہ صحت ’نیشنل انسٹیویٹ آف ہیلتھ‘ نے ہفتہ کو جن مزید آٹھ بچوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی اُن کا تعلق ملک کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاوہ کوئٹہ اور کراچی سے ہے۔

اس سے قبل 2001ء میں پاکستان میں 199 بچے پولیو سے متاثر ہوئے تھے۔

حال ہی میں عالمی ادارہ صحت یعنی ’ڈبلیو ایچ او‘ کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر مشیل تھائرین نے وائس آف امریکہ سے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں اس سال پاکستان میں پولیو وائرس کے رپورٹ ہونے والے کیسز 14 گنا زیادہ ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ انسانی جسم کو اپاہج کر دینے والے اس وائرس پر قابو پانے کے لیے اگر فوری طور پر اقدامات نا کیے گئے تو صورت حال مزید گھمبیر بھی ہو سکتی ہے۔

افغانستان اور نائیجریا کے علاوہ پاکستان دنیا کا تیسرا ملک جہاں پولیو وائرس پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ لیکن افغانستان اور نائیجیریا میں اس سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد خاصی کم رہی۔

عالمی ادارہ صحت کے اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر زبیر مفتی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے۔

’’یقیناً یہ ایک تشویشناک صورت حال ہے، خصوصاً عالمی صورت میں کیوں کہ پولیو سے متاثر جو دیگر ملک ہیں افغانستان اور نائیجیریا وہاں کیسز کی تعداد کافی کم ہے۔۔۔۔ لیکن دوسری جانب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد کی اکثریت اُن علاقوں سے ہے جہاں انسداد پولیو کی مہمات چلائی ہی نہیں جا سکیں جن میں شمالی اور جنوبی وزیرستان کے علاقے شامل ہیں۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ آنے والے چھ سے نو ماہ میں انسداد پولیو کی مہم کے دوران اس وائرس سے بچاؤ کے پلائے جانے والے قطروں کی قوت بہت بڑھ جاتی ہے اس لیے اس دوران موثر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس وائرس کے خلاف سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

رواں سال کے اوائل میں عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ نے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور کو دنیا میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا ’گڑھ‘ قرار دیا تھا۔

پاکستان میں گزشتہ دو برسوں کے دوران انسداد پولیو کی ٹیموں پر شدت پسندوں کے حملوں سے اس وائرس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششیں متاثر ہوئی ہیں۔

2012ء سے اب تک مختلف حملوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کے رضا اور اُن کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں سمیت 60 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں خواتین رضا کار بھی شامل ہیں۔

پاکستانی حکام اور عالمی ادارہ صحت سے وابستہ اعلیٰ عہدیداروں کو کہنا ہے کہ آئندہ نو ماہ سے ایک سال کے دوران انسداد پولیو کی بھرپور مہم چلانے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے۔

XS
SM
MD
LG