رسائی کے لنکس

پاکستان میں تین روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ڈاکٹر رانا صفدر نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس مہم میں دو لاکھ سے زائد رضا کار حصہ لے رہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور پیرا ملٹری فورس کے اہلکاروں کو مامور کیا گیا ہے۔

پاکستانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران ملک بھر میں پانچ سال یا اس سے کم عمر کے تقریباً تین کروڑ ستر لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوائے جائیں گے۔

پاکستان میں انسداد پولیو کے مرکزی سیل کے رابطہ کار ڈاکٹر رانا صفدر نے پیر کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس مہم میں دو لاکھ سے زائد رضا کار حصہ لے رہیں اور ان کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور پیرا ملٹری فورس کے اہلکاروں کو مامور کیا گیا ہے۔

رانا صفدر نے کہا کہ اس مہم کو موثر بنانے کے لیے ان خاندانوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کی گئی ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں۔

"ایسے خاندان جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتے رہتے ہیں ان کے بارے پورے پاکستان کے اندر ہم نے معلومات حاصل کی ہیں کہ یہ لوگ کس جگہ کس وقت اور کس علاقے کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور پھر ان کی واپسی کا عمل کب شروع ہوتا ہے اور یہ مشق ہم نے پاکستان کے اندر ہی نہیں کی ہے بلکہ پاکستان کی سرحد سے ملحق افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی افغان حکام کے تعاون سے یہ کی گئی ہے۔"

انہوں نے کہا کہ اس تین روزہ مہم کے دوران گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کے علاوہ ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر مقامات پر بھی عارضی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔

"ان کے لیے ہر شہر کے اندر اہم مقامات پر، جس میں تمام ریلوے اسٹیشن، بس اڈے شامل ہیں وہاں پر انسداد پولیو کی ٹیموں کو تعینات کیا ہے تاکہ ایسے بچوں کو جو سفر میں ہیں ان کو بھی پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوا سکیں۔"

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کا شمار دنیا کے ان دو ممالک میں ہوتا ہے جہاں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے، پاکستان کے علاوہ دوسرا ملک افغانستان ہے۔

پاکستان میں انتہا پسند حلقوں اور تنظیموں کی طرف پولیو سے بچاؤ کے قطروں کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی بنا پر کئی والدین اپنے بچوں کو یہ قطرے پلوانے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

گزشہ چار سالوں کے دوران عسکریت پسندوں نے انسداد پولیو ٹیموں کو نشانہ بنا کر پولیو مہم میں حصہ لینے والے رضا کاروں اور ان کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں سمیت ایک سو سے زائد افراد کو ہلاک کیا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پولیو کے مرض کے بارے میں عوام کو آگاہی و شعور پیدا کرنے کے لیے مذہبی رہنماؤں کی خدمات بھی حاصل کی گئیں جس کی وجہ سے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

پاکستان میں رواں سال اب تک پولیو کے 14 کیس سامنے آ چکے ہیں جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران یہ تعداد 38 تھی جو پولیو کیسوں میں 60 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

رانا صفدر نے کہا کہ اس صورت حال کے تناظر میں توقع کی جا سکتی ہے کہ انھیں رواں سال کے اواخر تک پاکستان میں پولیو کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں قابل ذکر کامیابی حاصل ہو گی۔

XS
SM
MD
LG