رسائی کے لنکس

انسداد پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کی 'شرح میں کمی'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

صوبہ خیبر پختونخواہ کے پولیو سیل کے ایک عہدیدار ڈاکٹر امتیاز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس مہم کے دوران پہلے کی نسبت انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھی گئی۔

پاکستان میں محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ انسداد پولیو کی حالیہ مہم میں والدین کی طرف سے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے سے انکار کی شرح میں خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے جو کہ ماضی کی نسبت اس موذی وائرس کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ایک حوصلہ افزا بات ہے۔

اس ہفتے تین روزہ مہم کے دوران ملک بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلوانے کی مہم کامیابی سے مکمل کی گئی اور ان علاقوں میں بھی انسداد پولیو کی ٹیموں کو بھیجا گیا جہاں سلامتی کے خدشات کے باعث پہلے ان کی رسائی نہیں تھی۔

صوبہ خیبر پختونخواہ کے پولیو سیل کے ایک عہدیدار ڈاکٹر امتیاز نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ اس مہم کے دوران پہلے کی نسبت انکار کرنے والے والدین کی تعداد میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھی گئی لیکن ان کے بقول اس سے متعلق اعداد و شمار کچھ عرصے بعد ہی سامنے آ سکیں گے۔

"جب یہ ہماری مہم چلتی ہے پہلے تین دنوں میں پولیو کے قطرے نہ پلوانے والے کیس رپورٹ ہوتے ہیں۔ اس دفعہ پہلے کے مقابلے میں اس مہم میں انکار کرنے والے کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے اور ان میں (پہلے کی نسبت) انکار کے کیسوں کی تعداد میں 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے"۔

انھوں نے بتایا کہ اس باران علاقوں تک بھی رسائی کو ممکن بنایا گیا جہاں اس سے پہلے سکیورٹی کے خدشات کے باعث بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلوائے جا سکے تھے۔

"اس میں ہم نے دیکھا کہ اس میں کافی بہتری آئی ہے۔ بہت سار ے جو علاقے جہاں ہمیں سکیورٹی کے مسائل تھے وہاں سکیورٹی کافی بہتر کی گئی ہے۔۔۔ اس دفعہ فاٹا اور کے پی کے کا مشترکہ پروگرام بنایا گیا اور مشترکہ سکیورٹی فراہم کی گئی اور ایسے علاقوں تک رسائی بھی ہوئی جہاں اس سے پہلے نہیں تھی"۔

پاکستان میں حالیہ سالوں میں سکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے بھی انسداد پولیو مہم میں خلل واقع ہوتا رہا جب کہ کئی والدین بھی اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرتے رہے ہیں جس سے اس مرض کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا۔

گزشتہ سال ملک بھر سے 300 سے زائد پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جب کہ رواں برس اب تک سامنے آنے والے کیسز کی تعداد نو بتائی گئی ہے۔

پاکستان کا شمار دنیا کے ان تین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں پولیو وائرس پر تاحال پوری طرح قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ دوسرے دو ملک افغانستان اور نائیجیریا ہیں۔

محکمہ صحت کے عہدیدار اس توقع کا اظہار کر چکے ہیں رواں سال مربوط کوششوں کی بدولت پولیو وائرس پر قابل ذکر حد تک قابو پایا جا سکے گا۔

XS
SM
MD
LG