رسائی کے لنکس

انسداد پولیو کی فوکل پرسن سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کی نگرانی بہتر ہونے کے باعث پچھلے برس کی نسبت اس سال ملک میں پولیو کیسز میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ آئندہ دو سالوں کے دوران ملک سے پولیو وائرس کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔

ممنون حسین نے یہ بات روٹری فاؤنڈیشن کے وائس چیئرمین اور انٹر نیشنل پولیو پلس کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میک گورن سے ملاقات میں کہی۔

صدر نے پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اس سلسلے میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیئے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا ہے جس سے انسداد پولیو کی مہم پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

روٹری انٹرنیشنل اپنے پروگرام پولیو پلس کے تحت حکومت پاکستان کی انسداد پولیو کی کوششوں میں شریک ہے۔ انٹر نیشنل پولیو پلس کمیٹی کے چیئرمین مائیکل میک گورن نے پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اقوام متحدہ سے پاکستان پر عائد سفری پابندیاں ہٹانے کے لیے بات کریں گے۔

پاکستان میں بڑھتے ہوئے پولیو کیسز کے باعث اس مہلک بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عالمی ادارہ صحت نے گزشتہ برس پاکستان پر سفری پابندیوں کی سفارش کی تھی، جن کے تحت کوئی پاکستانی پولیو ویکسین کے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کر سکتا۔

پاکستان میں انسداد پولیو کی فوکل پرسن سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کی نگرانی بہتر ہونے کے باعث پچھلے برس کی نسبت اس سال ملک میں پولیو کیسز میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

’’ہم جس طریقے سے پولیو مہموں کی کوالٹی اور آپریشنز پر توجہ دے رہے ہیں، جس طریقے سے پولیو ٹیموں کی حفاظت کی حکمت عملی بنائی ہے اور لوگوں سے ابلاغ اور ان کو اپنے بچوں کو پولیو قطرے پلانے پر راغب کرنے پر دھیان دے رہے ہیں، تو ہمیں بہت امید ہے کہ ستمبر سے اگلے سال مارچ اپریل تک جاری رہنے والی انسداد پولیو کی مہموں میں مزید بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ ہمیں بہت امید ہے کہ ہم بہت جلد پاکستان میں پولیو کا خاتمہ کر کے دکھائیں گے۔‘‘

عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ قبائلی علاقوں، پشاور اور کراچی کے کچھ حصوں جہاں اس سے قبل بہت سے بچے پولیو کے قطروں سے محروم رہتے تھے، ان علاقوں میں پولیو ٹیموں کی کافی حد تک رسائی ہو گئی ہیں۔

’’فاٹا کے کچھ علاقے جہاں اس وقت فوجی آپریشن جاری ہے، صرف وہاں رسائی نہیں ہوئی، مگر ملک کے باقی تمام حصوں میں پولیو ٹیموں کو رسائی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی شرح اب صرف 1.1 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ پولیو مہم کی تاریخ کی سب سے کم سطح ہے اور اس کے کافی بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔

حکومت کی کوششوں سے رواں سال یکم جنوری سے اب تک ملک میں پولیو وائرس سے صرف 24 بچے متاثر ہوئے، جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران یہ تعداد 84 تھی۔

XS
SM
MD
LG