رسائی کے لنکس

فیصل آباد میں انسداد پولیو ٹیم پر حملے میں ایک رضا کار ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

40 سالہ سرفراز ایک اسکول میں بطور استاد پڑھاتے تھے لیکن پولیو کے خلاف تین روزہ مہم میں بطور رضا کار کام کر رہے تھے۔

پاکستان کے اہم صنعتی شہر فیصل آباد میں منگل کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے پولیو ٹیم کے ایک رضا کار کو ہلاک کر دیا۔

پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ پیپلز کالونی میں پیش آیا جہاں محمد سرفراز انسداد پولیو مہم میں بچوں کو ویکسین پلوانے میں مصروف تھے۔

40 سالہ سرفراز ایک اسکول میں بطور استاد پڑھاتے تھے لیکن پولیو کے خلاف تین روزہ مہم میں بطور رضا کار کام کر رہے تھے۔

محکمہ صحت پنجاب کے عہدیدار اخلاق علی خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ " ہمارے پولیو رضاکاروں کی ٹیم میں دو سے تین افراد ہوتے ہیں، تو یہ مرد رضاکار تھے جو ایک اسکول ٹیچر تھے اور جب وہ پیپلز کالونی فیصل آباد میں ایک گھر کے باہر بچوں کو پولیو کے قطرے پلا رہے تھے تو اس وقت موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم حملہ آور وہاں سے گزرے اور aنہوں نے ان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا" ۔

حملہ آور موقع سے فرار ہو گئے جب کہ حکام کے بقول واقعے کی تحقیقات میں دیگر کئی پہلوؤں پر بھی غور کیا جا رہا ہے کیونکہ کسی پولیو ورکر پر فیصل آباد میں یہ پہلا جان لیوا حملہ ہے۔

پاکستان میں انسداد پولیو مہم سے وابستہ افراد پر دسمبر 2012ء سے حملے ہوتے آ رہے ہیں جس میں خواتین رضا کاروں اور پولیس اہلکاروں سمیت کم ازکم 67 افراد مارے جا چکے ہیں۔

ایسے ہی حملوں کے باعث انسداد پولیو مہم بار ہا معطل ہو چکی ہے اور تسلسل سے یہ کوششیں جاری نہ رہنے کی وجہ سے رواں سال ملک میں پولیو سے متاثرہ کیسز کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے۔

اس سال پولیو سے متاثرہ 276 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ گزشتہ برس یہ تعداد 93 تھی۔

ایک روز قبل خیبر پختوںخواہ کے علاقے بونیر میں بھی شدت پسندوں نے پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے دو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

XS
SM
MD
LG