رسائی کے لنکس

رواں سال پاکستان میں اب تک پولیو وائرس سے متاثرہ 37 کیس سامنے آچکے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس وائرس کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد 198 تھی۔

پاکستان میں پیر سے انسداد پولیو کی تین روزہ مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت بچوں کو اس موذی وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔

سرکاری طور پر اس ضمن میں 77 ہزار سے زائد پولیو ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو گھر گھر جا کر پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

صدر آصف علی زرداری نے انسداد پولیو کی قومی مہم کا آغاز کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت اس وائرس کے خلاف خاتمے تک اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گی۔

ایوان صدر اسلام آباد میں اس بارے میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ ’’میں اس بات سے آگاہ ہوں کہ کچھ شدت پسند انسداد پولیو کی مہم کے خلاف ہیں۔۔۔ ہم شدت پسندوں کو عوام کی فلاح کے کاموں کو روکنے نہیں دیں گے۔‘‘



صدر زرداری نے ایک بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا

صدر زرداری نے ایک بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا

انھوں نے کہا کہ وزیرستان میں انسداد پولیو مہم کو درپیش مسائل کا حل مقامی سطح پر وہاں کی روایات کے تحت تلاش کیا جائے گا۔

’’عجیب بات ہے کہ ہم نے اس خطے میں سب سے پہلے پولیو کے خلاف مہم چلائی اور اس بیماری کا خاتمہ ممکن تھا مگر اب تک یہ پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ بھارت میں پولیو کا خاتمہ ہو گیا ہے کوئی وجہ نہیں کہ ہم نا کر سکیں۔‘‘

افغانستان اور نائیجریا کے علاوہ پاکستان دنیا کا تیسرا ملک ہے جہاں جسمانی معذوری کا سبب بننے والا پولیو وائرس اب بھی موجود ہے۔

حالیہ مہینوں میں انسداد پولیو مہم میں معاونت کرنے والے بین الاقوامی اداروں کے اہلکاروں پر نا معلوم افراد کی طرف سے حملے کیے جاتے رہے ہیں جب کہ ملک کے شورش زدہ قبائلی علاقوں اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں بھی پولیو ٹیموں کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

رواں سال ملک بھر میں اب تک پولیو وائرس سے متاثرہ 37 کیس سامنے آچکے ہیں اور حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال اس وائرس کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد 198 تھی۔

انسداد پولیو مہم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود بین الاقوامی برادری کے تعاون سے پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی بھرپور مہم کے باعث ملک میں اس سال اس وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔
XS
SM
MD
LG