رسائی کے لنکس

عالمی ادارہ صحت نے جن ممالک پر سفری پابندیوں کی سفارش کی ہے اُن میں پاکستان کے علاوہ شام اور کیمرون شامل ہیں۔

عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ نے پاکستان سمیت تین ممالک پر سفری پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کی کمیٹی کے اراکین اور مشیروں نے پیر کو پولیو وائرس سے متاثرہ ملکوں کے نمائندوں سے ایک غیر رسمی ملاقات کے بعد بتایا کہ پاکستان، شام اور کیمرون سے یہ وائرس دوسرے ممالک میں منتقل ہو رہا ہے۔

اس لیے ان تین ملکوں کی حکومتوں کو چاہیئے کہ وہ اپنے شہریوں اور وہاں زیادہ عرصے تک قیام کرنے والوں کو بیرون ملک سفر سے چار ہفتے قبل انسداد پولیو کی ویکسین کا کورس مکمل کروائیں۔

عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ افغانستان، اسرائیل، نائیجریا، صومالیہ، عراق اور ایتھوپیا میں بھی پولیو کا وائرس پایا جاتا ہے مگر وہاں سے وائرس کہیں اور منتقل نہیں ہو رہا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق تین ماہ کے بعد پاکستان سمیت تین ممالک میں پولیو وائرس کی منتقلی سے متعلق صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد اس پابندی مین توسیع بھی ممکن ہے۔

بین الاقوامی سطح پر سفری پابندیوں کے اس اطلاق سے قبل پاکستانی عہدیداروں نے کہا تھا کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے انسداد پولیو ویکسین کا کورس مکمل کرنے کو لازمی قرار دینے کا کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اس مجوزہ منصوبے کے بارے میں وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ تمام ہوائی اڈوں، بندگاروں اور سرحدوں پر تنصیبات قائم کی جائیں گی اور پولیو ویکسینیشن مکمل کرنے پر ہر مسافر کو خصوصی کارڈ کا اجرا کیا جائے گا۔

’’روز اگر ہزاروں لوگ سفر کرتے ہیں تو ان کے لیے آپ کو اضافی ویکسین بھی تو چاہیئے ہوگی۔۔۔۔۔ تو اس کے لیے تمام صوبائی حکومتوں کو بھی ایسے اقدامات کرنے ہوں گے۔ میرے خیال سے ہمیں یہ بین الاقوامی سطح پر دکھانا ہو گا کہ ہمیں احساس ہے اور ہم ذمہ داری سے اس کا تدارک کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ رواں سال پاکستان میں اب تک 59 بچے پولیو کے وائرس سے متاثر ہوئے جن میں سے بیشتر کا تعلق ملک کے قبائلی علاقوں سے ہے اور اُن کے بقول اس کی وجہ سلامتی کے خدشات کے باعث وہاں تک انسداد پولیو کی ٹیموں کی رسائی کا نا ہونا ہے۔

’’پولیو کے تین ریزروائرز تھے، کراچی، پشاور اور قبائلی علاقے۔ قبائلی علاقوں میں بھی خصوصی طور پر جنوبی اور شمالی وزیرستان جہاں طالبان نے پابندی لگائی ہوئی تھی اور سیکورٹی کی وجہ سے ہیلتھ سسٹم مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ اب نئی حکمت عملی کے تحت وہاں فوج ہماری مدد کرے گی اور تحفظ فراہم کرے گی۔‘‘

ڈبلیو ایچ او کے پاکستان میں پولیو سے متعلق نیشنل کوآرڈینیٹر ڈاکٹر زبیر مفتی کا پاکستان حکومت کے مجوزہ اقدامات کے بارے میں کہنا تھا۔

’’اس سے بین الاقوامی سطح پر پھیلاؤ میں کمی تو آئے گی لیکن اس کا خطرہ بہرحال رہے گا اور ان پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی سفارشات بھی آتی رہیں گی لہذا اس کا بنیادی علاج یہ ہے کہ جہاں پر بچوں کو قطرے نہیں پلائے گئے وہاں پلائے جائیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ پشاور، اس کے گردونواح اور کراچی میں انسداد پولیو مہم کو موثر انداز چلانے کی بھی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران افغانستان، شام اور عراق میں پولیو کے کیسز سامنے آئے ہیں اور تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہاں یہ وائرس پاکستان ہی سے منتقل ہوا تھا۔
XS
SM
MD
LG