رسائی کے لنکس

سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ قانون ساز قومی اور سماجی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں بھرپور شرکت کریں۔

قومی اسمبلی میں منگل کو انسداد پولیو مہم کے لیے قانون سازوں کے تعاون کو یقینی بنانے کے لیے ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

وزیر مملکت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز سائرہ افضل تارڑ کی طرف سے پیش کردہ قرارداد میں اراکین پر زور دیا گیا کہ وہ قومی اور سماجی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ملک سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں میں بھرپور شرکت کریں جو کہ اقوام متحدہ کی تجویز کردہ پاکستان پر سفری پابندیوں کو ختم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔

قرارداد میں قانون سازوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے حلقوں میں انسداد پولیو مہم سے متعلق مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں۔

قرارداد کی ایوان میں متفقہ طور پر منظوری کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ انہیں اُمید ہے کہ اس سے پولیو وائرس کے خلاف مہم زیادہ موثر اور فعال ہو جائے گی۔

’’اب تک تمام صوبائی حکومتیں ضلعی انتظامیہ کی وساطت سے چلارہی ہیں تو جب قانون سازوں سے کہتے ہیں تو یہ کہتے ہیں یوں نہیں اور یوں نہیں۔ اب اگر کہیں سے کوئی کیس آیا تو میں اسمبلی میں کہوں گی کہ جی یہ حلقہ ہے اور یہ ممبر جنھوں نے قرارداد منظور کی تھی۔ روزانہ حکومت حکومت اب پتہ چلے گا کہ یہ کتنے پرعزم ہیں اس مہم میں۔‘‘

بین الاقوامی سطح پر پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) نے گزشتہ ہفتے پاکستان سمیت تین ممالک پر سفری پابندیاں تجویز کی تھیں جس کے تحت ان ملکوں کے شہری یا وہاں زیادہ عرصے تک قیام کرنے والے افراد پولیو ویکسینیشن کے بغیر ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے۔

ادھر مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کراچی اور شمالی وزیرستان سے دو نئے پولیو کیسز رپورٹ ہوئے جس سے گزشتہ پانچ ماہ میں پولیو کے مجموعی کیسز کی تعداد 61 ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ اور سرکاری حکام کے مطابق ان میں سے 90 فیصد قبائلی علاقوں بالخصوص شمالی اور جنوبی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے جہاں طالبان عسکریت پسندوں کی طرف سے عائد پابندیوں کی وجہ سے انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی رسائی نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ شمالی و جنوبی وزیرستان کے تقریباً 3 لاکھ بچے گرشتہ دو سالوں سے انسداد پولیو کے قطروں سے محروم ہیں اور پاکستان میں پولیو ویکسینیشن سے انکار کی شرح صرف اعشاریہ ایک فیصد ہے۔

انسداد پولیو سے متعلق وزیراعظم کے خصوصی سیل کے سربراہ ڈاکٹر الطاف بوسن کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان میں کچھ علاقوں میں پولیو ویکسینیشن شروع کی گئی ہے تاہم خیبر ایجنسی کے کچھ علاقے اور شمالی وزیرستان میں یہ مہم اب تک شروع نہیں کی جا سکی۔

’’فوج، تمام ادارے سپورٹ کے لیے راضی ہیں اور یہ فاٹا منیجمنٹ ہی کے ذریعے کی جا سکتی ہے مگر ہمیں بڑی احتیاط کرنا ہو گی ایسا نا ہو کہ کوئی بڑا سیٹ بیک ہو جائے۔ ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہی چیزوں کو آگے لے جایا جا رہا ہے اور وقت آئے گا کہ ہم دنیا کو بتائیں گے کہ ہاں ہم نے نارتھ اور ساؤتھ سے پولیو وائرس ختم کر ڈالا۔‘‘

ادھر ڈبلیو ایچ او نے وزارت خارجہ کی ترجمان کے ایک حالیہ بیان پر حکومت پاکستان سے اعتراض کیا جس میں انہوں نے اقوام متحدہ کے اداروں کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش کے لیے ایبٹ آباد میں چلائی جانے والی جعلی ویکسینیشن مہم سے منسلک کیا۔

ڈبلیو ایچ او کی ترجمان مریم یونس کا اس بیان کو غلط قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ان کا ادارہ ہمیشہ بڑے واضح انداز میں صحت سے متعلق پروگراموں کو کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرنے کی تنقید کرتا رہا ہے۔

ان کے مطابق وفاقی حکومت نے ڈبلیو ایچ او کو یقین دہانی کروائی گئی کہ وزارت خارجہ کی ترجمان کا بیان ’’قطعی طور پر غلط تھا اور غلطی سرزد ہوئی تھی‘‘۔

وزارت خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے گزشتہ جمعرات کو اپنی ہفتہ وار بریفنگ میں انسداد پولیو مہم سے متعلق مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ان سب سے بڑھ کر پاکستان میں جعلی ویکسینیشن کی مہم چلائی گئی جس میں یو این کی ایجنسیاں بھی استعمال کی گئیں‘‘۔

پاکستانی شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی پر الزام ہے کہ انہوں نے جعلی ویکسینیشن مہم چلاتے ہوئے بن لادن کی تلاش میں امریکہ کی مدد کی تھی۔ ڈاکٹر آفریدی اس وقت پاکستان میں قید ہیں۔

بن لادن مئی 2011ء میں امریکی اسپیشل فورس کے کمانڈوز کے ایبٹ آباد میں ایک آپریشن میں مارا گیا تھا۔
XS
SM
MD
LG