رسائی کے لنکس

نقل مکانی کرنے والوں کو انسداد پولیو قطرے پلانا ایک ’چیلنج‘


طالبان شدت پسندوں کی پابندی کے باعث گزشتہ دو سال سے محکمہ صحت سے منسلک رضاکار شمالی وزیرستان میں تقریباً تین لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نا پلا سکے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان جہاں عسکریت پسندوں کی آماجگاہ کے طور پر دنیا بھر میں جانا جاتا ہے وہیں وہاں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز طبی ماہرین کی پریشانی کا سبب بن گئے ہیں۔

طالبان شدت پسندوں کی پابندی کے باعث گزشتہ دو سال سے محکمہ صحت سے منسلک رضاکار شمالی وزیرستان میں تقریباً تین لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے نا پلا سکے، جس سے رواں سال ملک میں رپورٹ ہونے والے پولیو کے 83 کیسز میں 60 سے زائد کا تعلق اسی علاقے سے بتایا جاتا ہے۔

اتوار کو پاکستانی فوج کی طرف سے القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں کے خلاف کارروائی شروع کرنے کے بعد ہونے والی نقل مکانی سے انسداد پولیو سے متعلق صورتحال اقوام متحدہ اور محکمہ صحت کے عہدیداروں کے مطابق کچھ مزید پیچیدہ ہوگئی ہے۔

شمالی وزیرستان سے آنے والے لوگوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والے آپریشن کے نگران امتیاز علی شاہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں اسے ایک بہت بڑا چیلنج قرار دیا۔

’’ہیومن ایرر کبھی کبھی ہوجاتا ہے۔ اتنے زیادہ لوگ ہوں تو آپ کو نہیں پتہ چلتا کہ آپ نے کس کو قطرے پلائے ہیں اور کس کو نہیں۔ پھر جو نقل مکانی کرکے آرہے ہیں ان کی کیفیت کو بھی ذہن میں رکھیں۔ تو انہیں بار بار پوچھنا کہ آپ نے پیے یا نہیں تو وہ بھی رضاکاروں کے لیے ممکن نہیں۔‘‘

قبائلی علاقوں میں آفات سے نمٹنے والے ادارے ایف ڈی ایم اے کے ایک اندازے کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی سے شمالی وزیرستان سے 6 لاکھ سے زائد افراد کی نقل مکانی ہو سکتی ہے۔

تاہم امتیاز شاہ کا کہنا تھا کہ نا صرف انسداد پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی مجموعی تعداد میں اضافہ کیا گیا بلکہ نقل مکانی کرنے والوں کو ان مقامات پر بھی انسداد پولیو کی ویکسین پلائی جائے گی جہاں وہ قیام کریں گے۔

’’وہاں کے باعزت، سفید ریش لوگوں کو اس میں شامل کیا جاتا ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ فلاں جگہ مہمان آئے ہیں۔ پھر پولیس اور دیگر محکموں سے معلومات لی جاتی ہیں۔ جب وہ آ رہے ہوتے ہیں تو چیک پوسٹ پر رجسٹریشن کے وقت پوچھا جاتا ہے کہ وہ کہاں جائیں گے۔‘‘

سرکاری عہدیدار کا کہنا تھا کہ قبائلی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے خواتین کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے کے لیے خواتین کارکنوں کو بھی زیادہ سے زیادہ مہم میں شامل کیا گیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے پاکستان میں پولیو پروگرام کے سربراہ الیاس درے کا کہنا تھا کہ رواں سال رپورٹ ہونے والے پولیو کیسز کے مشاہدے سے یہ بات ظاہر ہے کہ ان ہی علاقوں سے کیسز آئے جہاں ویکسین نہیں پلائی گئیں۔

’’یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کی دیکھ بھال کریں اور یہاں صرف سوال پولیو کا ہی نہیں بلکہ یہ ہے کہ کس طرح شمالی وزیرستان سے نکلنے والے ہر فرد کو مناسب صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔"

حال ہی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت نے پاکستان کو ان تین ملکوں میں شامل کیا جو کہ دنیا بھر میں پولیو وائرس پھیلانے کا سبب ہیں اور اسی وجہ سے پاکستان پر سفری پابندی بھی عائد کی گئی جس کے تحت پولیو ویکسین پیے بغیر کوئی شخص ملک سے باہر نہیں جا سکتا۔

افغانستان اور نائیجیریا کے علاوہ پاکستان دنیا کا وہ تیسرا ملک ہے جہاں جسم کو مفلوج کردینے والی بیماری کے وائرس پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
XS
SM
MD
LG