رسائی کے لنکس

مسلم لیگ (ن) کی پشاور میں صوبائی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نوازشریف نے ایک مرتبہ پھر پیپلز پارٹی کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ پاکستان کو درپیش موجودہ بحرانوں کی وجہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی پالیسوں کا تسلسل ہے۔

’’یہ ملک جس پر 60 ارب ڈالر کا قرضہ ہے اتنے ہی ہم نے جھونک دیے اس وار آن ٹیرر میں اور پھر 35 ہزار لوگ شہید ہوگئے ہیں یہ کس کا دیا ہوا تحفہ ہے اس کا احتساب کس سے کیا جائے مشرف سے ضرور مانگا جائےلیکن ان سے کیا مانگا جائے جو اس وقت پاکستان کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں جنہوں نے مشرف کی پالیسیوں کو آج تک جاری رکھا ہوا ہے۔‘‘

نواز شریف نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہوچکی ہے اور حکومت عدالتی فیصلوں پر بھی عمل کرنے سے انکاری ہے۔ امریکی حکام کو بھیجے گئے مبینہ مراسلے کا ذکر کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ وہ یہ معاملہ عدالت میں لے کر گئے ہیں تاکہ ان کے بقول اصل حقائق سے قوم کو آگا ہی حاصل ہو۔

لیکن مسلم لیگ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ میمو اسکینڈل پر عدالت عظمٰی سے رجوع کر کے نواز شریف نے خود ہی پارلیمان کی اہمیت کو نظر انداز کیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے قائدین پنجاب انتظامیہ کو موثر بنانے کی طرف توجہ دلاتے آئے ہیں۔

حکومت پر نواز شریف کی تنقید سے ایک روز قبل پیپلز پارٹی کی مقتول رہنما اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی چوتھی برسی کے موقع پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ کی قیادت پر کچھ اس انداز میں تنقید کی تھی۔

’’ایک اور آواز مجھے آرہی ہے جنوبی پنجاب سے اس لیے کہ وہ بھی تخت لاہور سے صرف اپنا حق مانگتے ہیں وہ چاہتے ہیں ان کا صوبہ بنایا جائے ان کو تخت لاہور سے آزادی ملے۔‘‘

نواز شریف نے بدھ کے روز عمران خان کی تحریک انصاف پر بھی کڑی تنقید کی اور دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی اس جماعت میں شمولیت پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ ’’آج وہی ق لیگ اور مشرف لیگ کہیں اور اکٹھے ہورہے ہیں اور کوئی اپنی ہی ورلڈ الیون بن رہی ہے وہاں پرلیکن کیا اس طرح سے ملک چلتے ہیں۔‘‘

نواز شریف کی اس برہمی کی ایک وجہ سیاسی مبصرین کے بقول ان کی اپنی جماعت کے ایک سرکردہ اورمنجھے ہوئے سیاست دان جاوید ہاشمی کی تحریک انصاف میں شمولیت کا فیصلہ ہے۔

پاکستان میں حالیہ دنوں میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی اور حریف جماعتوں کی ایک دوسرے پر تنقید میں شدت کی وجہ مارچ میں سینٹ کے انتخابات ہیں جس کے بعد عام انتخابات کے لیے ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ جائے گا۔

XS
SM
MD
LG