رسائی کے لنکس

موروثی سیاست رویوں میں مثبت تبدیلی لانے میں مانع ہے: تجزیہ کار

  • یاسمین جمیل

موروثی سیاست رویوں میں مثبت تبدیلی لانے میں مانع ہے: تجزیہ کار

موروثی سیاست رویوں میں مثبت تبدیلی لانے میں مانع ہے: تجزیہ کار

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں تجزیہ کارڈاکٹر زیڈ اے قریشی کا کہنا تھا کہ موروثیت کےپاکستان کی سیاست پر مثبت اور منفی دونوں اثرات مرتب ہوئے ہیں

تجزیہ کاروں، دانشوروں اور تاریخ دانوں کا ایک سنجیدہ طبقہ ایک طویل عرصے سے اِس بات پر بحث کرتا آیا ہے کہ موروثی سیاست پاکستان کے لیے کیا ثمرات لائی ، یا پھردوسری طرف، ملکی سیاست پرمنفی اثرات مرتب کرنے میں موروثی سیاست کس حد تک ذمہ دار ہے۔

اِس حوالے سے ایک سوچ یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات ہوتے رہنے چاہئیں اور پھر سیاسی عمل چلتے رہنے سے تطہیر کا عمل کارفرما ہو گا، جس سے سیاست کا میدان شفاف ہوتا جائے گا، ملک کی سیاست کی جڑیں مضبوط ہوں گی، معاشرے میں ترقی کی راہیں کھلیں گی اور بہتر کارکردگی سامنے آئے گی، جِس استفسار کی سچائی سے انکار نہیں۔

جمعے کو ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو میں نامور سیاسی تجزیہ کارڈاکٹر زیڈ اے قریشی کا کہنا تھا کہ موروثیت کےپاکستان کی سیاست پر مثبت اور منفی دونوں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اُن کے بقول، اگر ملکی سیاست میں موروثیت کا عمل دخل نہ ہوتا تو شاید پاکستان میں جمہوریت کبھی نہ پنپ سکتی۔ لیکن، موروثیت نے ملکی سیاست اور ملکی حالات پر منفی اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔

موروثیت کے سیاست پر منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر قریشی نے کہا کہ موروثی سیاست کی وجہ سے ملک میں، اُن کے بقول، صحیح معنوں میں قیادت ابھر کر سامنے نہیں آئی۔اِسی بنا پر پارلیمان میں جو لوگ منتخب ہو کر آئے ہیں وہ ایسی پالیسیاں چلاتے ہیں جو کہ لوگوں کے مفاد ات میں نہیں بلکہ اُن سیاسی پارٹیوں یا شخصیات کے مفاد میں ہوتی ہیں جِن کی وہ نمائندگی کررہے ہوتے ہیں۔

اُن کے خیال میں جب سیاست سے موروثیت کا خاتمہ نہیں ہوجاتا، ملکی سیاست میں تبدیلی کا امکان موجود نہیں۔ دوسرے طرف، موروثیت کی سیاست کے خاتمے کے لیے، اُن کے مطابق، لازم ہے کہ تواتر کے ساتھ انتخابی عمل جاری رہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستانی تاریخ کی آدھی عمر مارشل لا حکومتوں نے لے لی جب کہ اگر بار بار الیکشن ہوئے ہوتے تو اُس کے جمہوری اثرات یقینی طور پر سامنے آتے۔

ادھر، سیاسی جماعتیں ، موروثیت اور قانون کے حوالے سےنامور قانون داں سید علی ظفر کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی قانون رائج نہیں جس کے تحت کسی خاندان یا ایک ہی امیدوار کےبار بار انتخاب لڑنے پر کسی طرح کی کوئی ممانعت ہو۔ تاہم، اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح پاکستان میں تیسری بار وزیرِ اعظم بننے پر پابندی کا قانون موجود ہے، اِس طرح آئین میں ایسی ترمیم کی ضرورت ہے جس کی رو سے ملکی سیاست سے موروثیت کا خاتمہ لایا جائے، جس کے باعث، اُن کے بقول، ایک مثبت سیاسی تبدیلی سامنے آئے گی۔

ڈاکٹر قریشی نے بھی اِس بات سے اتفاق کیا کہ سیاست سے موروثیت کو خارج کرنے کے لیے قانون سازی ضروری ہے۔ اُن کے الفاظ میں، جب تک اس پر عمل نہیں ہوگا اور میرٹ کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا، ملکی سیاست سے موروثیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

آڈیو رپورٹ سنیئے:

XS
SM
MD
LG