رسائی کے لنکس

وزیر اعظم نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل ظہیر الاسلام بھی شریک تھے۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف نے منگل کو ایک اعلٰی سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور انٹیلی جنس ادارے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل ظہیر الاسلام بھی شریک تھے۔

سرکاری بیان کے مطابق اس اجلاس میں قومی سلامتی اور ملک کی مجموعی سکیورٹی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اعلٰی سطحی اجلاس میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیراعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ و قومی سلامتی سرتاج عزیز نے بھی بریفنگ دی۔

حکومت کی طرف سے ملک میں دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے شدت پسندوں سے مذاکرات کی کوششوں اور آئندہ ہفتے وزیر اعظم نواز شریف کی امریکہ کے صدر براک اوباما سے ملاقات کے تناظر میں پاکستانی کی عسکری و سیاسی قیادت کا یہ اجلاس نہایت اہمیت کا حامل تھا۔

حالیہ ہفتوں میں وزیر اعظم نواز شریف سمیت اُن کی کابینہ میں شامل وزراء یہ کہتے آئے ہیں کہ دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے حکومت مذاکرات عمل میں سنجیدہ ہے۔

تاہم چند روز قبل جنرل کیانی نے تربیت مکمل کرنے والے فوجی افسران سے خطاب میں کہا تھا کہ فوج دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کی حامی ہے تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ایسا کوئی اقدام آئین کے اندر رہتے ہوئے کیا جانا چاہیئے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کی زیر صدارت منگل کو ہونے والے اجلاس سے ایک روز قبل پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی جیمز ڈوبنر نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی، وزیر داخلہ چودھری نثار اور وزیر اعظم کے مشیر برائے اُمور خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات میں دوطرفہ اُمور کے علاوہ خطے بلخصوص افغانستان کی صورت حال پر بھی تفصیلی بات چیت کی تھی۔

جیمز ڈوبنز اور سرتاج عزیز کے درمیان ملاقات میں رواں ماہ کی 23 تاریخ کو واشنگٹن میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور امریکہ کے صدر براک اوباما کی ملاقات کے ایجنڈے کو بھی حتمی شکل دی گئی۔
XS
SM
MD
LG