رسائی کے لنکس

مذاکرات اور احتجاج ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے: نواز شریف


فائل فوٹو

فائل فوٹو

وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اُن کی ڈکشنری میں ’ڈی‘ کا مطلب ڈیولیمپنٹ یعنی ترقی ہے نا کہ تباہی۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف توڑ پھوڑ کے راستے سے گریز کرے تو بات چیت کامیابی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ احتجاج اور مذاکرات دو متضاد چیزیں ہیں۔

پیر کو وزیراعظم نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگو میں یہ بات ایسے وقت کہی جب تحریک انصاف نے اپنے منصوبے کے تحت لاہور میں احتجاج کیا۔

’’اسحاق ڈار بیٹھ کر معاملے کو ایک طرف لگانا چاہتے ہیں، دوسری طرف سے بھی اگر یہ خواہش ہے اور یہ بند کروانا، توڑ پھوڑ، تشدد اس سے وہ اجتناب کریں، گریز کریں تو یہ گفتگو جو ہے کامیابی کی طرف بڑھ سکتی ہے۔ احتجاج بھی ہوتا رہا اور ڈائیلاگ بھی ہوتا رہے تو یہ تو دو متضاد باتیں ہیں ۔۔۔۔ جب ڈائیلاگ کرنا ہے تو پھر یہ احتجاج کیسا۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف نے تحریک انصاف کا نام لیے بغیر کہا کہ نا شائستہ زبان استعمال کر کے نیا پاکستان نہیں بنے گا بلکہ اُن کے بقول نئے پاکستان کے لیے تہذیب اور اچھے اخلاق کی ضرورت ہے۔

پیر ہی کو ملک کی مرکزی شاہراہ موٹروے کی مرمت کے ایک منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اُن کی ڈکشنری میں ’ڈی‘ کا مطلب ڈیولیمپنٹ یعنی ترقی ہے نا کہ تباہی۔

’’ڈکشنری میں(ڈی) سے ڈویلپمنٹ یعنی ترقی ہے اور (ڈی) سے ڈسٹرکشن یعنی تباہ کرنا بھی ہے۔ میں نے تو صرف پلان ’’ڈی‘‘ ڈویلپمنٹ یعنی ترقی والا یاد رکھا ہے دسٹرکشن والا ’’ڈی‘‘ یعنی تباہ کر دو والی ڈکشنری میرے پاس نہیں ہے وہ جس کے پاس تباہی والی ’’ڈی‘‘ ہے اللہ تعالیٰ پاکستان کو اس سے محفوظ رکھے۔ ‘‘

واضح رہے کہ اتوار کو اسلام آباد میں حکومت کی مذاکراتی ٹیم میں شامل وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور احسن اقبال نے تحریک انصاف کے رہنماؤں جہانگیر ترین اور اسد عمر سے ملاقات کی تھی جس کے بعد فریقین کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا اگلا دور منگل کو ہو گا۔

تحریک انصاف کا الزام ہے کہ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی اور اسی بنا پر 14 اگست سے یہ جماعت احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے۔ عمران خان کی جماعت کا پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا بھی جاری ہے تاہم اُنھوں نے 30 نومبر کو اپنے احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے ملک کے بڑے شہروں کو مرحلہ وار ایک ایک دن کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

لاہور سے قبل تحریک انصاف فیصل آباد اور کراچی میں ایک ایک روز کے لیے احتجاج کر چکی ہے۔ آٹھ اگست کو فیصل آباد میں احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعے میں تحریک انصاف کا ایک کارکن ہلاک ہو گیا تھا تاہم کراچی میں اس جماعت کا احتجاج مجموعی طور پر پرامن رہا۔

عمران خان کہہ چکے ہیں کہ اگر گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن نا بنایا گیا تو اُن کی جماعت 18 دسمبر کو پاکستان بھر میں احتجاج کر کے ملک بند کر دے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کے الزامات کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم نواز شریف جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لیے سپریم کورٹ کو پہلے ہی ایک خط لکھ چکے ہیں۔​

XS
SM
MD
LG