رسائی کے لنکس

پی پی پی، ق لیگ میں شراکتِ اقتدار کا معاہدہ طے


پی پی پی، ق لیگ میں شراکتِ اقتدار کا معاہدہ طے

پی پی پی، ق لیگ میں شراکتِ اقتدار کا معاہدہ طے

وفاقی وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے درمیان بات چیت کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان شراکتِ اقتدار کے معاہدے کے تحت ق لیگ کو پارلیمان میں اُس کے اراکین کی تعداد کے تناسب سے وفاقی کابینہ میں وزارتیں دی جائیں گی، جن کی تعداد10یا 11بنے گی اور حتمی تعدادکا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا

پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق کے قائدین کے درمیان اتوار کی رات دیر تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد ایک سرکاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دونوں سیاسی پارٹیوں نے ملک میں جمہوری استحکام، انتخابی اصلاحات کے نفاذ کو یقینی بنانے اور آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے جنوبی پنجاب میں سرائکی جب کہ خیبر پختونخواہ میں ہزارہ صوبہ بنانے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ایوانِ صدر سے جاری ہونےوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں سیاسی جماعتوں نے عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوششوں میں تعاون کرنے پر اتفاق کیا ہے جِن میں افراطِ زر پر قابو پانا، اقتصادی بہتری، بجلی کی لوڈ شیڈنگ، احتساب اور امن و امان کی صورتِ حال کو مستحکم کرنا شامل ہیں۔

صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے پانے کے بعد مسلم لیگ ق اصولی طور پر مرکز میں وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی کی زیرِ قیادت مخلوط حکومت میں شامل ہونے پر تیار ہوگئی ہے، اور دونوں جماعتوں نے آئین کے تحت آئندہ ہونے والے انتخابات میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

وفاقی وزیرِ اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے درمیان بات چیت کے بعد سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان شراکتِ اقتدار کے معاہدے کے تحت ق لیگ کو پارلیمان میں اُس کے اراکین کی تعداد کے تناسب سے وفاقی کابینہ میں وزارتیں دی جائیں گی، جن کی تعداد10یا 11بنے گی اور حتمی تعدادکا فیصلہ باہمی مشاورت سے کیا جائے گا۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ مسلم لیگ ق کے چودھری پرویز الاہی کو نائب وزیرِ اعظم کا عہدہ دینے پر اتفاقِ رائے نہیں ہوسکا، کیونکہ ملک کا آئین بھی اِس کی اجازت نہیں دیتا۔

ایوانِ صدر میں ہونے والے مذاکرات میں پیپلز پارٹی کے وفد کی قیادت صدر آصف علی زرداری نے کی اور اُس میں مخدوم امین فہیم ، راجہ پرویز اشرف اور وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی شامل تھے، جب کہ مسلم لیگ ق کے وفد میں چودھری شجاعت حسین، چودھری پرویز الاہی اور راجہ بشارت شامل تھے۔

حکمراں پیپلز پارٹی کی طرف سے مسلم لیگ ق کو سیاسی اتحاد تشکیل دینے کی پیش کش پر دونوں حریف جماعتوں کے درمیان ٹھوس مذاکرات کا سلسلہ گذشتہ جمعرات کو شروع ہوا تھا اور دونوں جماعتوں میں طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق مستقبل میں سینیٹ، عام انتخابات اور مقامی حکومتوں کے انتخابات میں یہ دونوں سیاسی جماعتیں بعض حلقوں میں انتخابی نشستون پر بھی سمجھوتا کریں گی یا سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوگی۔

پیپلز پارٹی روزِ اول سے بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام مسلم لیگ ق پر عائد کرتی آئی ہے جِس میں خاص طور پر چودھری پرویز الاہی کا نام سرِ فہرست ہے جب کہ 2008ء کے انتخابات کے بعد خود صدر زرداری اِس حریف جماعت کو ’قاتل لیگ‘ کا خطاب دے چکے ہیں۔ لیکن، پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سیاست میں کل کے حریفوں کا آج حلیف بن جانا کوئی انوکھی بات نہیں، کیونکہ ، اُن کے بقول، پاکستان کو درپیش مشکلات سے نکالنے کے لیے قومی ایجنڈے پر حکومت کا ساتھ دینے والی ہر جماعت سے اتحاد کیا جاسکتا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی اتحاد سے جہاں مسلم لیگ ق پر ایک فوجی آمر کا ساتھ دینے اور بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام ختم ہوگا وہیں صدر زرداری کے لیے بھی یہ فائدے کا سودا ہے، کیونکہ، اُن کے بقول اِس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے روایتی مخالفین مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے، جب کہ اِس پیش رفت کا سب سے زیادہ نقصان نواز شریف کی مسلم لیگ کو ہوگا جو پہلے ہی ملک کے سیاسی منظر نامے پر اپنے سخت گیر مؤقف کی وجہ سے تنہائی کا شکار نظر آتی ہے۔

XS
SM
MD
LG