رسائی کے لنکس

قومی اسمبلی میں ہی آج دوسری قرار داد وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی پر مکمل اعتماد کےحوالے سے منظور کی گئی۔ اس قرار داد کو بھی کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔ دوسری جانب جمعرات کو ہی مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 6اضلاع پر مشتمل نئے صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرارداد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی

پاکستان میں جمعرات کا دن قرار دادوں کا دن تھا۔ پاکستان کے دونوں ایوانوں یعنی قومی اسمبلی اور سینیٹ کے علاوہ سندھ اسمبلی میں بھی کئی قرار دادیں منظور کی گئیں۔ اس کا آغاز ہوا قومی اسمبلی سےہوا جہاں جنوبی پنجاب کو سرائیکی صوبہ بنانے کی قرار داد پیش کی گئی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

قومی اسمبلی میں ہی آج دوسری قرار داد وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی پر مکمل اعتماد کےحوالے سے منظور کی گئی۔ اس قرار داد کو بھی کثرت رائے سے منظور کیا گیا۔ دوسری جانب جمعرات کو ہی مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام (ف) نے 6اضلاع پر مشتمل نئے صوبہ ہزارہ کے قیام کی قرارداد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق قرارداد مسلم لیگ (ق)‘ متحدہ قومی موومنٹ اور جمعیت علمائے اسلام کے اراکین کے دستخطوں سے جمع کرائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ہزارہ ڈویژن کے عوام کا احساس محرومی دور کرنے اور ان کے مفادات کے تحفظ اور انہیں بااختیار بنانے کیلئے حکومت فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے صوبہ ہزارہ کے نام سے خیبرپختونخوا میں نیا صوبہ بنائے جو ایبٹ آباد ‘ بٹگرام‘ ہری پور‘ کوہستان‘ مانسہرہ اور تورغ کے اضلاع پر مشتمل ہو۔

ادھر سینٹ میں بھی وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر اعتماد کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی۔ جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس کے دوران قائد ایوان جہانگیر بدر نے تحریک پیش کی کہ معمول کی کارروائی معطل کر کے قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جائے جس کی چیئرمین نے ایوان سے رائے لینے کے بعد اجازت دیدی جس کے بعد قائد ایوان جہانگیر بدر نے قرارداد پیش کی۔

سندھ اسمبلی میں عالمی یوم صحافت کے موقع پر قرارداد متفقہ طور پر منظورکی گئی جسے وزیر اطلاعات شازیہ مری نے پیش کیا تھا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ یہ اسمبلی آئین میں دی گئی آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے اپنے وعدہ کا پاس رکھتی ہے اور اس آزادی کے تحفظ کیلئے پائیدار جمہوریت کی ضرورت کو تسلیم کرتی ہے۔

علاوہ ازیں سندھ اسمبلی میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر مکمل اعتماد پر بھی ایک قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ یہ قرارداد وزیر قانون ایاز سومرو اور سینئر وزیر پیر مظہر الحق نے پیش کی تھی۔ قرارداد میں سندھ اسمبلی نے اپنے اس یقین کا اعادہ کیا کہ وزیراعظم کی نااہلی کیلئے آئینی طریقہ کار اپنانا چاہیئے اور اگر کوئی اور طریقہ کار اختیار کیا گیا تو اسمبلی اسے غیر آئینی تصور کرتی ہے۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ یہ ایوان وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتا ہے کیونکہ وہ آئینی و جمہوری طور پر منتخب وزیراعظم ہیں۔

XS
SM
MD
LG