رسائی کے لنکس

منفی سیاست کرنے والے مسائل پیدا کر رہے ہیں: وزیراعظم


وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

تحریک انصاف کے عارف علوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت وسط مدتی انتخابات چاہتی ہے تو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان تحریک انصاف کے گزشتہ عام انتخابات کی مکمل جانچ پڑتال کے مطالبے اور اس کے لیے آئندہ ہفتے دارالحکومت اسلام آباد میں اعلان کردہ ریلی کے تناظر میں ملک کے سیاسی ماحول میں پائی جانے والی ہلچل میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ میں نواز شریف انتظامیہ اور جمہوری نظام کے مستقبل کے علاوہ اس سیاسی بے چینی کے محرکات بھی زیر بحث ہیں۔ کوئی تو اس کا ذمہ دار حکومت کے غیر سنجیدہ رویے کو ٹھہراتا ہے تو کوئی نا دیدہ قوتوں کو۔

پیر کو وزیر اعظم نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی سربراہی کی جس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع و پانی و بجلی خواجہ آصف، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق کے علاوہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل تھے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق مسٹر نواز شریف کا کہنا تھا کہ ’’جو لوگ منفی سیاست میں ملوث ہیں وہ پاکستان کے مسائل حل کرنے کی بجائے پیدا کر رہے ہیں‘‘۔

تاہم بعض مقامی میڈیا میں پیر کو شائع ہونے والی خبروں کے مطابق وزیر اعظم نے سرکاری ریڈیو کو ایک انٹرویو میں اشارہ دیا کہ وہ حزب اختلاف کی شکایات سننے اور انہیں حل کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسی ریلی یا لانگ مارچ سے خطرہ محسوس نہیں کر رہی۔

پاکستان تحریک انصاف کے عہدیداروں کے مطابق جماعت کی پارلیمانی کمیٹی نے قانون ساز اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے فیصلے کا اختیار عمران خان کو دے دیا ہے۔

کور کمیٹی کے رکن عارف علوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت وسط مدتی انتخابات چاہتی ہے تو اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز انتظامیہ نے مذاکرات کے ذریعے معاملہ طے کرنے میں تاخیر سے کام کیا۔

’’(مذاکرات) پہلے کرنے تھے نا۔ یہ تو نہیں کہ معاملہ اتنا بڑھ جائے پھر کرتے ہیں۔ چار (نشستوں) کا ہم کہہ رہے تھے اس کے علاوہ جہاں جہاں سے پتہ چل رہا ہے گند بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اسی لیے گھبرا رہے تھے کہ چار کھلے تو اور بھی کھولنے پڑیں گے۔‘‘

ادھر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے اتوار کو پاکستان مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس میں 10 اگست کو لاہور میں حکومت مخالف احتجاج کا اعلان کیا۔

تحریک انصاف کی یوم آزادی کے موقع پر احتجاجی ریلی میں شرکت کے بارے میں واضح اعلان نا کرنے کے باوجود تمام حزب اختلاف کی جماعتوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی نے احتجاج کرنے اور تحریک انصاف کے 2013ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی مکمل جانچ پڑتال کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔

نواز حکومت کی اتحادی مذہبی و سیاسی جماعت جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیئر رہنما سینیٹر غفور حیدری کہتے ہیں کہ ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال جمہوری نظام کے لیے خطرناک اور فوج کی مداخلت کے لیے راہ ہموار کر سکتی ہے۔

’’الیکشن کمیشن میں یا طریقہ کار میں کوئی سقم ہے تو اسے بھی بیٹھ کر طے کریں۔ ظاہر ہے پاکستان میں حکومت الیکشن کے ذریعے ہی کی جا سکے گی۔ انقلاب ہوا تو پھر فوج کا انقلاب ہوگا۔ طاہرالقادری صاحب یا عمران خان کا نہیں ہو گا۔‘‘

نواز انتظامیہ نے دارالحکومت اسلام آباد میں تین ماہ کے لیے مقامی انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج طلب کر رکھی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نواز انتظامیہ فوج کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا چاہتی ہے۔

تاہم حکومت اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ فوج طلب کرنے کا فیصلہ شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے ردعمل میں عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG