رسائی کے لنکس

وسط مدتی انتخابات کوئی غیر آئینی چیز نہیں: سابق وزیراعظم


راجہ پرویز اشرف (فائل فوٹو)

راجہ پرویز اشرف (فائل فوٹو)

پیپلز پارٹی نے موجودہ سیاسی کشیدگی میں حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے اور اس جماعت کے رہنماؤں کے بقول ملک کی بقا کے لیے جمہوریت کا تسلسل لازمی ہے۔

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد میں جاری دھرنے اور حکومت مخالف احتجاج کے دائرے کو بڑھانے کے اعلانات کے بعد حکومت کے لیے بظاہر مشکلات بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔

یہ دونوں جماعتیں وزیراعظم نواز شریف کے استعفے سے کم کسی بھی صورت میں احتجاج ختم کرنے پر رضامند نہیں لیکن حکومت اور دیگر پارلیمانی جماعتیں اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے جمہوریت کے تسلسل کے لیے معاملات کو بات چیت سے حل کرنے پر اصرار کرتی آرہی ہیں۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان گزشتہ عام انتخابات میں مسلم لیگ ن پر دھاندلی کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہتے آئے ہیں کہ 2013ء کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر مبینہ دھاندلی کی وجہ سے سارا انتخابی عمل ہی مشکوک ہو چکا ہے لہذا وزیراعظم استعفی دیں اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں۔

حکومتی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے غیر جانبدار عدالتی کمشین تشکیل دینے کا عندیہ دیتے ہوئے انتخابی اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے چکی ہے لیکن سیاسی کشیدگی کسی طور کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

مرکز میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی حکمران مسلم لیگ ن کی روایتی حریف رہی ہے لیکن اس نے موجودہ سیاسی کشیدگی میں حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے اور اس جماعت کے رہنماؤں کے بقول ملک کی بقا کے لیے جمہوریت کا تسلسل لازمی ہے۔

اس ساری صورتحال میں بعض حلقوں کی جانب سے وسط مدتی انتخابات کی چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی کے ایک سینیئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لیے جو بھی آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنا پڑے ان کی جماعت اس کی بھرپور حمایت کرے گی۔

"وسط مدتی انتخابات بھی آئینی اور قانونی ہیں ساری دنیا میں ہوتے ہیں اگر انتخابی عمل صاف شفاف ہو جائے، عوام مطمیئن ہو جائیں، صحیح انتخابات ہونے شروع ہو جائیں اس میں ہر قسم کی مداخلت ختم ہو جائے تو اس کے یے آپ کو 50 الیکشن بھی کروانا پڑیں تو آپ کو گھبرانا نہیں چاہیے۔"

عمران خان نے حالیہ دنوں میں ملک کے مختلف حصوں میں جلسے بھی منعقد کیے ہیں اور آنے والے دنوں میں ایسے ہی عوامی اجتماعات کا اعلان کر چکے ہیں۔ ان جلسوں میں وہ وزیراعظم اور حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے لیکن اس کی آڑ میں لوگوں کو تشدد پر اکسانا کسی صورت بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ہفتہ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کی دشنام ترازیوں پر انھیں تنقید کا نشانہ بنایا۔

"خان صاحب کو پتا نہیں کیا ہوگیا ہے مجھے تو ان سے کبھی کبھی ہمدردی ہوتی ہے۔ ایک تو وہ نواز فوبیا کا شکار ہو گئے ہیں انھیں ہر دیوار کے پیچھے دھاندلی نظر آتی ہے اور اپنا ہر مخالف انھیں چور نظر آتا ہے اور جن کو ساتھ لے کر کنٹینر پر کھڑے ہوتے ہیں وہ ان کو ملائکہ نظر آتے ہیں۔"

ادھر اسلام آباد میں اپنے حامیوں کے ساتھ براجمان عوامی تحریک کے قائد طاہر القادری بھی عید الاضحیٰ کے بعد حکومت مخالف جلسے شروع کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔

اس جماعت کے ہزاروں کارکن گزشتہ 50 روز سے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دیے ہوئے ہیں لیکن پیر کو ہونے والی عید الاضحیٰ کے لیے عوامی تحریک کے اکثر لوگ اپنے آبائی علاقوں کا رخ کر رہے ہیں۔

حکومت مخالف دونوں جماعتوں کے قائدین نے عید الاضحیٰ دھرنے کے شرکا کے ساتھ ہی منانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG