رسائی کے لنکس

مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم مشترکہ اپوزیشن پر متفق


مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم کے رہنما ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کررہے ہیں۔

مسلم لیگ نون اور ایم کیو ایم کے رہنما ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کررہے ہیں۔

حزب اختلاف کی دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ نے برسر اقتدار مخلوط حکومت کے خلاف پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں میں مشترکہ اپوزیشن کرنے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور ایم کیوایم کے رہنماؤں نے یہ فیصلہ بدھ کو اسلام آباد میں ملاقات کے بعد کیا۔

حال ہی میں حکمران اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرنے والی جماعت ایم کیوایم کے مرکزی رہنما حیدر عباس رضوی نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ”دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے پاکستان بھر کے منتخب ایوانوں کے ذریعے آئینی اور قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے عوامی اور قومی ایشوز پر بھرپور اپوزیشن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔“

مذاکرات کے اس دور میں مسلم لیگ (ن ) کے وفد کی قیادت سینیٹر اسحاق ڈار نے کی۔ اُنھوں نے کہا کہ ملکی مفاد اس بات کا متقاضی ہے کہ ذاتی رنجشوں سے بالا تر ہو کر ملکی مسائل کے حل کے لیے کام کیا جائے ۔ ”ہم مشترکہ اپوزیشن کے طور پر کام کریں گے اور یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔“

مسلم لیگ (ن) کے رہنما نواز شریف کی طرف سے موجودہ حکومت کے خلاف گرینڈ اپوزیشن الائنس بنانے سے متعلق بیان کے بعد سیاسی رابطوں میں اضافہ ہوا ہے۔ حکمران پیپلز پارٹی کے ناراض رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بدھ کو نواز شریف سے ملاقات کی۔

مبصرین کے مطابق حزب اختلاف کی مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریاتی اختلافات بظاہرایک بڑے اپوزیشن اتحاد کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تجزیہ کار حسن عسکری کا کہنا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں کے رابطے تو جاری ہیں لیکن اُن کے بقول فوری طور پر کسی اتحاد کا قیام مشکل ہے۔ ”گرینڈ الائنس بنانے کے لیے جو کوششیں جاری ہیں اُس کے بارے میں ابھی کوئی (واضح ) بات سامنے نہیں آئی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے مسلم لیگ (ن) اور باقی جماعتوں کے درمیان سوچ اور ماضی کے تجربہ کے حوالے سے کافی اختلافات پائے جاتے ہیں “۔

وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کا کہنا ہے کہ اُن کی حکومت اور جمہوریت کو اپوزیشن جماعتوں کے ممکنہ اتحاد سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ”ہمارا ایم کیوایم سے مسلسل رابطہ ہے۔ کسی کو یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ باقی لوگ رابطے میں ہیں اور ہم رابطے میں نہیں ہیں“۔

میاں نواز شریف نے دو جولائی کو ایک بیان میں کہا تھا کہ موجودہ حکومت سے نجات کے لیے ایک گرینڈ الائنس بننا چاہیئے۔ اس سے قبل پیپلزپارٹی کی ایک اہم اتحادی جماعت ایم کیوایم نے مرکز اور صوبہ سندھ کی حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اپوزیشن نشستوں پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ایم کیوایم کی پیپلزپارٹی سے علیحد ہ ہونے کی وجہ پاکستان کے زیرا نتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی تین نشستوں پرامن وامان کی خراب صورت حال کے باعث انتخابات ملتوی کرانے کا فیصلہ تھا۔

جن نشستوں پر پولنگ ملتوی کی گئی تھی اُن میں پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کے دو حلقے بھی شامل تھے جن پر ماضی کے انتخابات میں ایم کیوایم کے اُمیدوار کامیاب ہوئے تھے۔

XS
SM
MD
LG