رسائی کے لنکس

شہباز شریف کی تجویز پر تنقید جاری

  • محمداشتیاق

شہباز شریف کی وزیراعظم گیلانی سے ملاقات (فائل فوٹو)

شہباز شریف کی وزیراعظم گیلانی سے ملاقات (فائل فوٹو)

وفاقی وزیر قانون نے ایک بار پھر کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی ۔ بابر اعوان نے بتایا کہ رواں ماہ کی 21 تاریخ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے جس سے صدر آصف علی زرداری آئینی تقاضہ پورا کرتے ہوئے خطاب کر کے نئے پارلیمانی سال کا آغاز کریں گے۔

حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ایک قومی کانفرنس بلانے کی تجویز پیش کی تھی جس میں سیاسی رہنماؤں کے علاوہ عدلیہ اور فوج کی قیادت کو بھی شامل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

لیکن اُن کی اس تجویز کی پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت شدید مخالفت کر رہی ہے اور اسے ایک غیر آئینی اقدام قراردیاجارہا ہے۔ اس سلسلے کا تازہ بیان جمعہ کو وفاقی وزیر قانون بابر اعوان نے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں دیا جہاں اُنھوں نے ایک بار پھر شہباز شریف کی تجویزکو عدالتی مارشل لاء کے مترادف قرار دیا۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان کے دو قابل احترام اداروں عدلیہ اور فوج کا کردارسیاسی نہیں بلکہ آئینی ہے اوراس وقت ملک کے تمام ادارے آئین کے اندر رہتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں اس لیے نہ تو موجودہ نظام کو کوئی خطرہ ہے اور نہ ہی اسے کمزور کرنے کی کوششیں کامیاب ہوں گی۔

وفاقی وزیر نے ایک بار پھر کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی ۔ بابر اعوان نے بتایا کہ رواں ماہ کی 21 تاریخ کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے جس سے صدر آصف علی زرداری آئینی تقاضہ پورا کرتے ہوئے خطاب کر کے نئے پارلیمانی سال کا آغاز کریں گے۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے قومی مسائل کے حل کے لیے ماضی میں بھی کل جماعتی اجلاس بلائے گئے لیکن پہلی مرتبہ کسی سیاسی رہنماء نے ایک ایسے مجوزہ اجلاس میں فوج اور عدلیہ کو شامل کرنے کی تجویز دی ہے جو اس وقت ملک کے سیاسی حلقوں اور مقامی میڈیا میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔

XS
SM
MD
LG