رسائی کے لنکس

پاکستان منفی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا: نواز شریف


وزیراعظم کی اپنے حلیف مولانا فضل الرحمن سے ملاقات

وزیراعظم کی اپنے حلیف مولانا فضل الرحمن سے ملاقات

پارلیمان کے سامنے دھرنے دینے والی جماعتیں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے قائدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوائے بغیر اسلام آباد سے نہیں جائیں گے۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں عمران خان اور طاہرالقادری کی قیادت میں جاری دھرنوں کو مذاکرات کے ذریعے ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال اس سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہو سکی۔

وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ پاکستان منفی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے اسلام آباد میں احتجاج کو 27 دن ہو چلے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان دھرنوں کی وجہ سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

حکومت اور تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان اب تک اس مسئلے کے حل کے لیے براہ راست بات چیت کے ایک درجن سے زائد دور ہو چکے ہیں اور دونوں جانب سے بدھ کی شب کہا گیا تھا کہ مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

لیکن نا تو حکومت اور نا ہی تحریک انصاف کی طرف سے اس کی وضاحت کی گئی۔

وزیراعظم نواز شریف نے جمعرات کو جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اُنھوں نے بعد میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر ایک بیان میں کہا کہ سب کو مل کر ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہیئے۔

’’میری خواہش ہے کہ ہم سب مل کر ترقی کے سفر کی جانب بڑھیں۔۔۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہمیں یہاں دھرنوں کے علاوہ کوئی سیاست نہیں آتی۔‘‘

وزیراعظم نے جمعہ کو وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی بلایا ہے جس میں موجودہ سیاسی صورت حال پر بات چیت کی جائے گی۔

پارلیمان کے سامنے دھرنے دینے والی جماعتیں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے قائدین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات منوائے بغیر اسلام آباد سے نہیں جائیں گے۔

عمران خان مئی 2013ء کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر مبینہ دھاندلی کا الزام لگا کر وزیراعظم کے استعفے کے علاوہ انتخابی اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں جب کہ عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کے بقول اُن کا ایجنڈا ملک میں ’انقلاب‘ ہے۔

حکومت اور پارلیمان میں موجود بیشتر دیگر سیاسی جماعتوں کا ماننا ہے کہ صرف اُنھی مطالبات کو مانا جائے گا جو آئین اور قانون کے دائرے میں آتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG