رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے جلسے


حزب مخالف عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے

حزب مخالف عدالتی فیصلے کے بعد وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہی ہے

وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں سزا سنائے جانے کے بعد حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن) نے حکومت مخالف تحریک کا آغاز کر رکھا ہے۔

اپوزیشن کی اس احتجاجی تحریک کے جواب میں حکمران پیپلز پارٹی نے بھی صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے کمبو میں ہفتے کو ایک ریلی کا انعقاد کیا جس میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے مقررین نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

پنجاب کی سرحد پر واقع کمبو میں منعقدہ اس ریلی سے وفاقی اور صوبائی وزراء کے علاوہ پیپلز پارٹی کے قائدین نے خطاب کیا۔ سندھ کے سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) سیاسی مقاصد کے لیے وزیراعظم گیلانی کو ہدف تنقید بنا رہی ہے۔

’’ہم نواز شریف کو جواب دینے آئے ہیں کہ اگر مہم جوئی کی یا سندھ کے عوام کو لکارا تو یہ سندھ کے ساڑھے پانچ کروڑ لاہور سے پیچھے نہیں رکیں گے۔‘‘

جب پیپلز پارٹی کی یہ ریلی جاری تھی تو پنجاب کے ضلع خوشاب میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماء نواز شریف نے حکومت مخالف احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے ان کی پارٹی اپنی بھرپور احتجاجی تحریک جاری رکھے گی۔

’’یوسف رضا گیلانی صاحب سزا کو تسلیم نہیں کر رہے اور پھر کہتے ہیں کہ اپیل میں جاؤں گا، اپیل سے پہلے نیچے اترو گھر جاؤں۔۔۔۔ اگر اپیل میں تمھارے خلاف فیصلہ نہیں ہوتا تو تم واپس وزارت عظمیٰ کے آ جاؤ گے۔‘‘

مسلم لیگ (ن) کے قائدین کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی جانب سے وزیراعظم گیلانی کو توہین عدالت کے مقدمے میں سنائی گئی سزا کے بعد وہ ملک کے اعلیٰ ترین انتظامی منصب پر فائز رہنے کی اہلیت کھو بیٹھے ہیں۔

لیکن پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سپریم کورٹ میں اپیل کا حق رکھتے ہیں اور جب تک حتمی فیصلہ نہیں آجاتا وہ بدستور اپنے عہدے پر فائز رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG