رسائی کے لنکس

مذاکرات کے باوجود سیاسی رہنماؤں کے تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری


عمران خان (فائل فوٹو)

عمران خان (فائل فوٹو)

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فریقین میں بات چیت کا دوبارہ آغاز خوش آئند ہے لیکن اس سے فوری طور پر کسی نتیجے کی امید رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

سابق کرکٹر عمران خان کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی ختم کرنے کے لیے تعطل کے شکار مذکرات کا دوبارہ بحال تو ہوگئے ہیں لیکن دونوں جانب کے رہنماؤں کی طرف سے تندو تیز بیانات کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔

تحریک انصاف مسلم لیگ ن پر گزشتہ عام انتخابات میں دھاندلی کر کے اقتدار میں آنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف گزشتہ چار ماہ سے سراپا احتجاج ہے اور اس نے اپنے احتجاج کے سلسلے میں نہ صرف ملک کے مختلف شہروں میں جلسے کیے بلکہ اسی ماہ سے مرحلہ وار ملک کے بڑے شہروں کو بند کرنے کا اعلان بھی کر چکی ہے۔

پیر کو فیصل آباد میں احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعے سے اس کا ایک کارکن ہلاک ہوگیا تھا جبکہ گزشتہ روز اس نے کراچی میں بھی مختلف مقامات پر دھرنا دے کر معمولات زندگی معطل کرنے کی کوشش کی۔ یہ احتجاج مجموعی طور پر پرامن رہا۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں تحریک اںصاف کی ایک مرکزی رہنما شیریں مزاری نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل تک ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

" ہم اپنے پلان کے مطابق چل رہے ہیں۔ ہم ایک سیاسی جماعت ہیں ڈائیلاگ کے لیے ہمیشہ تیار ہیں اچھا ہے اب وہ (حکومتی عہدیدار) واپس آئے ہیں (مذاکرات کے لیے) ، لیکن جب تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنتا ہم اپنا پلان جاری رکھیں گے۔"

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنماؤں خصوصاً اس جماعت کے سربراہ عمران خان کو چاہیے کہ وہ مذاکرات شروع ہونے کے بعد نہ صرف اپنا احتجاج موخر کردیں بلکہ حکومت کے خلاف دشنام ترازیاں بھی بند کریں تاکہ بات چیت ساز گار ماحول میں ہو سکے۔

وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی عرفان صدیقی کا وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہنا تھا۔

"ہمارا خیال ہے کہ کافی حد تک انھوں (تحریک انصاف) نے اپنی احتجاجی تحریک کے مرحلے طے کر لیے ہیں اور وہ شاید خلوص دل سے چاہتے ہوں گے کہ معاملہ حل ہو، حکومت پہلے بھی یہی چاہتی تھی۔ اگر ایسا ہے تو ایک دو نشستوں کے اندر معاملات طے پاسکتے ہیں کمیشن کے بارے میں ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں دونوں جماعتیں مشترکہ طور پر بھی کوئی پیش رفت کر سکتی ہیں۔"

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فریقین میں بات چیت کا دوبارہ آغاز خوش آئند ہے لیکن اس سے فوری طور پر کسی نتیجے کی امید رکھنا مناسب نہیں ہوگا۔

سینیئر تجزیہ کار رسول بخش رئیس کہتے ہیں کہ "اس وقت ایک محتاط انداز میں پرامید رہنا چاہیے ایک کھلم کھلا امید ظاہر کرنا حقائق کے منافی ہوگا اور بالکل ناامیدی بھی ذہن میں رکھنا حقائق کے خلاف ہوگا، میں سمجھتا ہوں کہ دونوں جانب سے زور آزمائی کی سیاست جاری ہے۔"

عمران خان یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اپنے اعلان کردہ پلان سی کے مطابق شہروں کو بند کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور پیر کو وہ لاہور میں اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ بھی کریں گے۔

XS
SM
MD
LG