رسائی کے لنکس

پی پی پی، ایم کیو ایم، دوبارہ اتحاد آخری مرحلے میں


پی پی پی، ایم کیو ایم، دوبارہ اتحاد آخری مرحلے میں

پی پی پی، ایم کیو ایم، دوبارہ اتحاد آخری مرحلے میں

پاکستانی سیاست میں تمام تر نظریں اس وقت ایم کیو ایم پر لگی ہوئی ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی تمام کاوشیں کامیاب ہونے میں زیادہ دیر نہیں اور آئندہ ایک ، دو روز میں اس کے وزراء ایک مرتبہ پھر حکومتی بنچوں پر لوٹ آئیں گے ۔۔۔۔لیکن ماہرین و مبصرین اس بار پی پی ، ایم کیو ایم اتحاد کے مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ پر امید نہیں۔ان کے نزدیک دونوں جماعتوں کے روٹھنے اور منانے کے عمل کا سب سے زیادہ نقصان کراچی کے شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ان کی جانب سے اس صورتحال کو ” دو ہاتھیوں کی جنگ میں گھاس کچلنے “ کے مترادف قرار دیا جار ہا ہے ۔

27 جون کو حکومت سے ایم کیو ایم کی علیحدگی کے بعد ایسامحسوس ہورہاتھا کہ اس نے حکومتی اتحاد کی طرف واپس جانے والی تمام کشتیاں جلادی ہیں اور اب یہ عوامی مسائل پر حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی مگر پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت نے ایک جانب تو مستعفی وزراء کا استعفیٰ قبول نہیں کیا تودوسری جانب کمشنری نظام کا نفاذ ، ایم کیو ایم کے احتجاج کے باوجود سندھ اسمبلی سے لینڈ ریونیو کے بلوں کی منظور ی، حیدرآبادکی پانچ اضلاع میں تقسیم اور ایم کیو ایم کے اسیروں کی اندرون سندھ منتقلی جیسے حکومتی اقدامات سے ایم کیو ایم حکومت میں دوبارہ واپسی پر مجبور ہوگئی ہے۔

گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد خان کی اپنے عہدے پر واپسی کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان فاصلے مزید کم ہونے لگے ہیں۔ میڈیا ذرائع اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ ایک یا دو روز میں ایم کیو ایم سندھ کابینہ میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لے گی جبکہ دوسرے مرحلے میں ایم کیو ایم وفاقی کابینہ میں اور تیسرے مرحلے میں آزاد کشمیرحکومت کا حصہ بن جائے گی جبکہ اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ وہ گلگت بلتستان میں بھی اپنی پوزیشن مضبوط کرلے ۔

اگر چہ پی پی پی اور ایم کیو ایم پھر ایک دوسرے کے غموں اور خوشیوں کے ساتھی بننے جارہے ہیں لیکن ماہرین اس مرتبہ ان کے اتحاد کے مستقبل کے بارے میں کچھ زیادہ پر امید نہیں ۔اکثریت کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کی قیادت صرف آئندہ سال مارچ میں سینیٹ انتخابات تک ایم کیو ایم کو ساتھ لے کر چلے گی جس کے بعد ایک مرتبہ پھر دونوں کی راہیں جدا ہو جائیں گی۔ دونوں جماعتوں کا اتحاد ہمیشہ ہی غیر فطری قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس میں صرف ایک چنگاری سے بلند وبالا شعلے بننے میں دیر نہیں لگتی ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ علیحدگی کے دوران دونوں جماعتوں کی قیادت نے کھل کر ایک دوسرے کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جس کی گواہی آج بھی کراچی کے درو دیوار دے رہے ہیں ۔ایک جانب تو ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین نے کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو دوسری جانب انہوں نے یہ مسئلہ بھی اٹھایا کہ آیا بھارت، تقسیم ہند کے وقت ہجرت کرجانے والے 6 کروڑ مہاجرین کو دوبارہ قبول کرلے گا؟ شہریوں سے ایک ماہ کا راشن جمع کرنے کی اپیل اور صدر، وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ پربراہ راست لیاری میں غنڈہ عناصر کی سرپرستی کا الزام، ایم کیو ایم کے انتہائی اقدامات تھے ۔

دوسری جانب بعض حلقے یہاں تک گمان کر رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے متحدہ قومی موومنٹ کی سب سے بڑی حریف جماعت مہاجر قومی موومنٹ (حقیقی) کو اس کے متبادل کے طور پر لانے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تھے لیکن ذوالفقار مرزا کے مہاجرین سے متعلق ایک بیان اور اس کے بعد ایم کیو ایم کے احتجاج نے حالات کا رخ بد ل ڈالاجس سے پیپلزپارٹی اپنی منصوبہ بندی تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئی ورنہ آج کراچی کے حالات کچھ اور ہی ہوتے۔

بہرحال ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے درمیان اختلافات اور پھر اتحاد تو معمول بن چکا ہے لیکن اس تمام تر صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر کراچی ہو رہا ہے ، بعض ماہرین تو دونوں جماعتوں کے رویے سے اس حد تک ناخوش ہیں کہ دونوں جماعتوں کے تعلقات کو ” دو ہاتھیوں کی جنگ میں گھاس کچلنے “ کے مترادف قرار دیتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG