رسائی کے لنکس

جونیئر ذوالفقار مرزا ، والد کی خالی کردہ نشست کے ممکنہ امیدوار


جونیئر ذوالفقار مرزا ، والد کی خالی کردہ نشست کے ممکنہ امیدوار

جونیئر ذوالفقار مرزا ، والد کی خالی کردہ نشست کے ممکنہ امیدوار

سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے استعفیٰ کے بعد بدین سے خالی ہونے والی سندھ اسمبلی کی نشست کے لئے ان کے صاحبزادے حسنین ذوالفقار مرزا ممکنہ امیدوار ہوسکتے ہیں۔مسلم لیگ فنکشنل نے اعلان کیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کی جانب سے حسنین ذوالفقار مرزا کو ضمنی انتخابات میں ٹکٹ دیا جاتا ہے تو وہ اس کی بھر پور حمایت کرے گی جبکہ اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ ذوالفقار مرزا کی خالی نشست پر امیدوار کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ۔

مبصرین کے مطابق اس وقت تمام سیاسی نظریں ذوالفقار مرزا کی خالی نشست پر پیپلزپارٹی کے امیدوار کے نام پر مرکوز ہیں کیونکہ حسنین ذوالفقار کو پارٹی ٹکٹ دینے سے متعلق فیصلہ ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے ۔

پیر کو گزشتہ دنوں ذوالفقار مرزا اور مسلم لیگ فنکشنل کی ملاقات کے ثمرات اس وقت سامنے آئے جب شکار پور میں مسلم لیگ فنکشنل کے صوبائی وزیر امتیاز شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ذوالفقار مرزا کی خالی نشست پی ایس 57 پر فنکشنل لیگ ذوالفقار مرزا کے بیٹے کی حمایت کرے گی کیونکہ پیر صاحب پگاڑا ذوالفقار مرزا کو پسند کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو ٹکٹ دیا جاتا ہے تو امید ہے کہ اس کے مقابلے میں مسلم لیگ فنکشنل اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گی ۔

دوسری جانب لاڑکانہ میں اپنی رہائشگاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر سندھ اسمبلی نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ ذوالفقا ر مرزا کی خالی نشست پر امیدوار کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور یہ معاملہ پارٹی کرے گی ، اس لئے اس نشست پر امیدوار کون ہو گا کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا ۔ تاہم پارٹی میں اراکین کی اکثریت کی رائے ہے کہ ذوالفقار مرزا پرانے ساتھی ہیں اس لئے انہیں ایک موقع دیا جائے۔

یاد رہے کہ انتیس اگست کو ذوالفقار مرزا نے وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اور ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین پر سنگین الزامات عائد کیے تھے اور سینئر صوبائی وزیر ، پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر نائب صدر کے عہدوں اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا ۔ ایک ماہ اٹھارہ دن بعد دس اکتوبر کو اسپیکر سندھ اسمبلی نثار کھوڑو نے اعلان کیا تھا کہ ذوالفقار مرزا کا صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے جس کے بعد بدین کے حلقہ 57 کی صوبائی نشست خالی ہو گئی تھی جہاں ضمنی انتخابات ہوں گے ۔

ذوالفقار مرزا کی خالی نشست پر امیدوار کا انتخاب پیپلزپارٹی کیلئے چیلنج

مبصرین کے مطابق ذوالفقار مرزا کی خالی نشست پر امیدوار کا انتخاب پیپلزپارٹی کیلئے کسی بھی چیلنج سے کم نہیں ۔ اگر تو ان کے ذوالفقار مرزا کے صاحبزادے حسنین کو ضمنی انتخابات میں پارٹی ٹکٹ دیا جاتا ہے تو ان کی فتح یقینی ہو گی تاہم اگر اس حلقے میں ان کی جگہ پارٹی کسی ایسے امیدوار کو کھڑا کرتی ہے جس پر مرزا فیملی کو اعتراض ہوا تو وہاں سے اس کی کامیابی کی گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا ، کیونکہ جہاں مسلم لیگ فنکشنل اس کی حریف ہو گی وہیں عوام اور سندھی قوم پرست بھی اس کی مخالفت کر سکتے ہیں ۔

اس تمام تر صورتحال میں حسنین ذوالفقار مرزا کو ٹکٹ دینا پیپلزپارٹی کیلئے حریفوں کو تنقید کا موقع بھی فراہم کر سکتا ہے کیونکہ پارٹی عہدوں اور اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہوجانے کے باوجودذوالفقار مرزا نے صدر آصف علی زرداری سے متعلق کوئی بھی منفی بیان نہیں دیا لہذا حریف حلقوں میں ذوالفقار مرزا کی جگہ ان کے صاحبزادے کوٹکٹ دینے سے تنقیدی توپوں کے دہانے کھل سکتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG