رسائی کے لنکس

مظاہرین سے سڑکیں صاف کرانا مشکل کام نہیں: وزیراعظم


مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کی وجہ سے دو افراد کی ہلاکت پر اسلام آباد میں وزیراعظم نواز شریف اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف پر قتل و اقدام قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ اُنھیں عوام نے منتخب کیا اور اب وہ چند ہزار لوگوں کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔

وزیراعظم نے بدھ کو ایک تقریب سے خطاب میں یہ بھی واضح کیا کہ مظاہرین کو ہٹانا مشکل نہیں تاہم اُن کے بقول حکومت نے تحمل کا مظاہرہ کیا۔

’’ہم نے آج تک بڑی شرافت اور بڑی بردباری کے ساتھ ان ساری چیزوں کو برداشت کیا ہے، لیکن سڑکیں اور راستے صاف کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔‘‘

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین کے خیمے

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مظاہرین کے خیمے

اُنھوں نے پارلیمان کے سامنے دھرنا دینے والی جماعتوں کی طرف سے وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کے استعفی پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’’یہ کس لیے لانگ مارچ شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف استعفیٰ دے شہباز شریف استعفیٰ دے، کیوں دیں۔ پاکستان کی اٹھارہ کروڑ عوامی نے نواز شریف کو وزیراعظم بنایا تو پانچ ہزار لوگوں کے کہنے پر میں استعفیٰ دے دوں، یہ کیسے ہو سکتا ہے۔‘‘

وزیراعظم نے پارلیمان کے سامنے دھرنا دینے والی جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پوری پارلیمنٹ ایک طرف اور مظاہرین ایک طرف ہیں۔

’’آج پوری قوم ایک طرف ہے یہ پانچ ہزار ایک طرف ہیں، پوری پارلیمنٹ ایک طرف ہے یہ ایک پارٹی ایک طرف ہے، اس معاملے میں پوری قوم متفق ہے۔‘‘

اُدھر اسلام آباد میں جاری دھرنوں کے دوران 30 اگست کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے دو افراد کی ہلاکت پر پولیس نے وزیراعظم نواز شریف، پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف اور وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ آصف، وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق کے علاوہ اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے نامزد اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف قتل اور اقدام قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے والی ایک جماعت عوامی تحریک کی طرف سے دائر درخواست پر اسلام آباد کی ضلعی عدالت کے ایک جج نے پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا کہا تھا۔

اسلام آباد میں جاری حکومت مخالف احتجاج بالعموم پرامن رہا تاہم 30 اگست کو جب عوامی تحریک اور تحریک انصاف کے کارکنوں نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی کا اعلان کیا تھا تو اُن کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں۔

حکومت میں شامل عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے جب پارلیمان کے احاطے میں داخل ہونے اور ایوان صدر کے بیرونی دروازے کو پھلانگنے کی کوشش کی تو اُنھیں منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کہہ چکے ہیں کہ اسلام آباد میں پولیس کو کسی طرح کا اسلحہ نہیں دیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG