رسائی کے لنکس

مبینہ مراسلے پر زرداری حکومت شدید دباؤ کا شکار


مبینہ مراسلے پر زرداری حکومت شدید دباؤ کا شکار

مبینہ مراسلے پر زرداری حکومت شدید دباؤ کا شکار

صدر آصف علی زرداری نے جمعہ کو حکمران پیپلز پارٹی کی اعلیٰ سطحی مشاورتی کور کمیٹی اور بعض وفاقی وزراء کے اجلاس کی قیادت کی، جس میں شرکاء کو بتایا گیا کہ واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو متنازع مراسلے کے بارے میں ملک کی قیادت کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کرنے کے لیے اسلام آباد طلب کیا گیا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’انصاف کا تقاضہ ہے کہ سفیر (حسین حقانی) کو اس معاملے پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔‘‘

پاکستانی سفیر پر الزام ہے کہ اُنھوں نے ہی صدر زرداری سے منسوب وہ مبینہ خط سابق امریکی فوجی کمانڈر ایڈمرل مائیک ملن کو بھیجا تھا جس میں پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ڈائیریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا کو برطرف کرنے کے لیے امریکی قیادت سے مدد مانگی گئی تھی۔

ادھر جمعہ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں حزب مخالف نے فوج کے خلاف کارروائی کے لیے امریکی مدد طلب کرنے کے معاملے پر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا اور مطالبہ کیا کہ اس میں ملوث افراد کو بے نقاب کرنے کےلیے فوری طور پر غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کرائیں جائیں۔

قائد حزب اختلاف چودھری نثارعلی خان نے ایوان میں اپنی تقریر میں مبینہ خط کے معاملے پر صدر مملکت اور حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

’’یا زرداری صاحب اپنے آپ کو علیحدہ کریں سارے معاملے میں، جو لوگ ذمہ دار ہیں اُن کو انصاف کے کٹہرے میں لے کر آئیں، اور میں یہ بھی واضح کر دوں یہ مسئلہ کسی کے استعفے سے نہیں روکے گا، یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ میرے سے غلطی ہو گئی یہ پاکستان سے غداری کے مترادف ہے جو کچھ ہو رہا ہے اور ہم آئین اور قانون کے مطابق اس کا حل چاہیئں گے۔‘‘

واشنگٹن میں پاکستانی سفیر حسین حقانی مبینہ خط کے بارے میں اُن پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید اور اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کی پیشکش کر چکے ہیں، جب کہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ تمام معاملے پرحکومت کو وضاحت پیش کرنے کے لیے حسین حقانی حکومت کے طلب کرنے پر جلد وطن پہنچ رہے ہیں۔

وزیر اعظم گیلانی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے اس موقف کو دہرایا۔

’’ہمیں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرنا چاہیئے، اور ذرا انتظار کریں۔ اُن (حسین حقانی) کو آنے دیں، میں پہلے ہی یقین دہانی کرا چکا ہوں کہ اُنھیں وضاحت پیش کرنے کے لیے بلایا جا رہا ہے اور وہ ملک کی قیادت کے سامنے یہ وضاحت پیش کریں گے۔ (اور) اگر پھر اگر آپ کے ذہن میں کوئی چیز ہو گی آپ ضرور (مطالبہ) کریں، مگر میں آپ کو بتا دوں یہ ایشو بھی حل ہو جائے گا۔‘‘

لیکن حکومت کی تمام تر وضاحتوں کے باوجود سیاسی مخالفین کے مطالبات جاری ہیں جب کہ مقامی میڈیا میں صدر زرداری ہدف تنقید بنے ہوئے ہیں۔

سابق امریکی فوجی کمانڈر مائیک ملن کو بھیچے گئے مراسلے کی جمعہ کو مزید تفصیلات مقامی اور غیر ملکی میڈیا میں سامنے آئی ہیں۔ پاکستانی صدر سے منسوب اس مبینہ خط میں امریکی حکومت سے وعدہ کیا گیا ہے کہ اسے اجازت ہو گی کہ وہ اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے ذمہ دار پاکستانی فوجی حکام کا نام تجویز کرے اور اگر وہ القاعدہ کے نئے لیڈر ایمن الزاوہری اور طالبان کے مفرور لیڈر ملا عمر کے خلاف پاکستانی سرزمین پر کارروائی کرے گی تو پاکستان اس میں مدد کرے گا۔ جب کہ اس مبینہ مراسلہ میں پاکستان کےجوہری ہتھیاروں کے پرورگرام کی نگرانی کے لیے بھی امریکہ کو رسائی دینے کے وعدہ کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG