رسائی کے لنکس

وفاقی کابینہ میں ق لیگ اور روٹھی ہوئی جماعتوں کی شمولیت کا شور


وفاقی کابینہ میں ق لیگ اور روٹھی ہوئی جماعتوں کی شمولیت کا شور

وفاقی کابینہ میں ق لیگ اور روٹھی ہوئی جماعتوں کی شمولیت کا شور

پاکستان کے ایوانوں میں وفاقی کابینہ میں ممکنہ توسیع کے معاملے پر ایک مرتبہ پھر سیاسی ہلچل پیدا ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔ اس پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا یہ بیان کہ ملکی سیاست لمحہ بہ لمحہ بدل رہی ہے اور متحدہ قومی موومنٹ ، جمعیت علماء اسلام (ف) اور پاکستان مسلم لیگ ق کی وفاقی کابینہ میں شمولیت خارج از امکان نہیں، مزید سنسنی پیدا کر رہا ہے ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مختلف اوقات میں وفاقی کابینہ تشکیل دی جاتی اور تحلیل کی جاتی رہی ہے۔ حالیہ تحلیل کے بعد نئی کابینہ کی تشکیل پر تو وزراء کے درمیان اچھی خاصی بحث بھی چھڑی اور کئی وزراء نے اپنی اپنی وزارت کے حوالے سے ناراضگی بھی ظاہر کی ۔ اس دوران کچھ اتحادی روٹھے بھی اور انہوں نے کابینہ سے علیحدگی بھی اختیار کی۔ وفاقی کابینہ کے ہمراہ کس پارٹی نے کتنا عرصہ گزارا اگر اس بات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وفاقی کابینہ کے ساتھ سب سے کم سفر مسلم لیگ ن کا رہا جو صرف 43 دن پر محیط تھا ۔ اس کے بعد متحدہ قومی موومنٹ ایک سال گیارہ ماہ اور ایک دن تک کابینہ کا حصہ رہی جبکہ جے یو آئی ف نے الگ ہونے والی جماعتو ں میں سب سے زیادہ دو سال آٹھ ماہ اور 14 دن وفاق کے ہمراہ گزارے۔

اگر اس بار حکمراں جماعت پیپلزپارٹی قومی اسمبلی میں تیسری بڑی سیاسی جماعت مسلم لیگ( ق) کو وفاقی کابینہ میں شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابی تصور ہوگی کیونکہ اب تک یہ واحدبڑی جماعت ہے جوابھی تک وفاقی کابینہ میں شامل نہیں ہوئی ۔ اس کے برخلاف مسلم لیگ( ن) سمیت ، متحدہ قومی موومنٹ ، جمعیت علماء اسلام (ف) ، عوامی نیشنل پارٹی ، مسلم لیگ فنکشنل ،بی این پی (عوامی) اور فاٹا کی نمائندگی، وفاقی کابینہ کوحاصل رہی ہے ۔

موجودہ حکومت کی پہلی24 رکنی کابینہ سے 31 مارچ 2008 کو سابق صدر پرویز مشرف نے حلف لیا تھا۔ 19 اپریل 2011 تک اس کی عمر تقریباً 3 سال اور19 دن بنتی ہے ۔ اس عرصے میں شروع سے لیکر اب تک صرف عوامی نیشنل پارٹی واحد بڑی جماعت ہے جو پیپلزپارٹی کا ساتھ نبھاتی رہی جبکہ مسلم لیگ ن ، جمعیت علماء اسلام (ف) اور متحدہ قومی موومنٹ اس کا ساتھ چھوڑ چکی ہیں ۔

تین نومبر دو ہزار آٹھ کو وفاقی کابینہ میں ایک بار پھر توسیع کی گئی اور اس بار 22 وفاقی وزراء اور 18 وزرائے مملکت نے صدر آصف علی زرداری کے ہاتھوں حلف اٹھایا جس کے بعد کابینہ کے ارکان کی تعداد 57 ہو گئی ۔اس بار وفاقی کابینہ میں مسلم لیگ فنکشنل کو بھی نمائندگی دی گئی جبکہ اے این پی اور فاٹا کی نمائندگی میں اضافہ کردیا گیا ۔مسلم لیگ فنکشنل کی نمائندگی سے اے این پی کے بعد مسلم لیگ فنکشنل کی صورت میں پیپلزپارٹی کو ایک اور مستقبل اتحادی مل گیا ۔

26 جنوری دو ہزار نو کو متحدہ قومی موومنٹ نے وفاقی کابینہ میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ ایم کیوایم اور جے یو آئی ف کے دو ، دو وزرا ء سے صدر زرداری نے حلف لیا ۔ اس طرح وفاقی وزراء کی تعداد 41 ہوگئی جبکہ وزرائے مملکت کی تعداد18 اور مشیروں کی تعداد 3 ہو گئی جبکہ کابینہ میں وزراء کی کل تعداد 62 تک جا پہنچی ۔ اس طرح پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت میں اے این پی ، فاٹا ، مسلم لیگ (فنکشنل ) ، بی این پی ( عوامی) اور جے یو آئی کے ساتھ اب ایم کیو ایم بھی شامل ہو گئی ۔

14 دسمبر دو ہزار دس کو حج کرپشن کیس کے بعد ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جمعیت علماء اسلام کے وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اعظم خان سواتی اور وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیاجس کے بعد جے یو آئی ف نے احتجاجاً حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ۔

13 دن بعدیعنی 27 دسمبر 2010 کو متحدہ قومی موومنٹ بھی اس وقت کے وزیر داخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے ایک بیان جس میں انہوں نے کراچی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث بعض شر پسندوں کا تعلق ایم کیو ایم سے قرار دیا تھا ، اس پر احتجاجاً وفاقی کابینہ سے الگ ہو گئی ۔

9فروری دو ہزار گیارہ کو پیپلزپارٹی کی قیادت کے فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے تقریبا ً اسی ممبران پر مشتمل جہازی کابینہ مستعفی ہو گئی ۔کابینہ کو تحلیل کرنے کا مقصدیہ تھا کہ اس کا حجم کم کر کے اٹھارویں ترمیم کے مطابق کیا جائے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنما قمر الزمان قائرہ کے مطابق قومی اسمبلی کے کل 442 ممبر ہیں اور آئین کے تحت ان کا 11 فیصد نکالیں تویہ تعداد 49 بنتی ہے ۔

11 فروری کو 22 ارکان پر مشتمل نئی کابینہ سے صدر آصف علی زرداری نے حلف لیا جس میں 21 وفاقی وزیر اور ایک وزیر مملکت شامل تھا ۔ نئی کابینہ میں عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ فنکشنل کو بھی ایک ، ایک وزارت دے کر شامل کیا گیا ۔قمر الزمان قائرہ کے اس بیان کی روشنی میں ابھی بھی وفاقی کابینہ میں مزید 27 اراکین کی گنجائش موجود ہے اور اس میں متحدہ قومی موومنٹ ، جے یو آئی ف کو دوبارہ شامل کرنے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم ،مسلم لیگ (ق) کی آمد کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دے رہے۔

اگر مسلم لیگ ق کابینہ کا حصہ بنتی ہے تو یہ واحد حکومت ہو گی جس کو کسی نہ کسی دورانیہ میں ہر بڑی جماعت کی نمائندگی حاصل رہی ہو گی۔

XS
SM
MD
LG