رسائی کے لنکس

’سیاست میں حریف اور حلیف بدلتے رہتے ہیں‘


’سیاست میں حریف اور حلیف بدلتے رہتے ہیں‘

’سیاست میں حریف اور حلیف بدلتے رہتے ہیں‘

وفاقی وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت مختلف جماعتوں کے ساتھ سیاسی مفاہمت کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے اور ان میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ق) بھی شامل ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ مفاہمت کی یہ کوششیں ملک کو درپیش سنگین مسائل سے موثر انداز میں نمٹنے کی خاطر کی جا رہی ہیں۔

پیپلز پارٹی 2008ء کے انتخابات سے قبل اور حالیہ مہینوں تک مسلم لیگ (ق) کو ملک کو درپیش اقتصادی و سلامتی کے مسائل کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ہدف تنقید بناتی رہی ہے جب کہ پیپلز پارٹی کے سربراہ صدر آصف علی زرداری اس جماعت کے قائدین پر سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگا چکے ہیں۔

لیکن ان تمام حالات کے باوجودمسلم لیگ (ق) سے رابطوں کا دفاع کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ ”جو کل کا سیاسی حریف ہے وہ آج کا سیاسی حلیف ہو سکتا ہے، یہ سیاست کا فلسفہ ہے۔“

مسلم لیگ (ق) کے رہنماء پہلے ہی پیپلز پارٹی کی طرف سے مخلوط حکومت میں شامل کیے جانے اور وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کی پیشکش کی تصدیق کر چکے ہیں لیکن اُن کا کہنا ہے کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ جماعت کے قائدین تفصیلی صلاح مشورے کے بعد کریں گے۔

وفاقی وزیر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سیاسی مفاہمت کی کوششیں کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ۔ ”پی ایم ایل (ق) کے ساتھ ہی صرف مذاکرات کی بات نہیں ہوئی، صدرِ پاکستان نے بلوچستان میں موجود اُن قوتوں کے ساتھ جن کو ابھی تک ڈائیلاگ کا حصہ نہیں بنایا گیا، اُنھوں نے کوشش کی کہ تمام قانون سازوں کو اعتماد میں لیں کہ ہم بلوچستان کے اُن ناراض گروپس کو بھی بات چیت میں شامل کرنے جا رہے ہیں۔“

گذشتہ کئی روز سے مقامی ذرائع ابلاغ میں حکمران پیپلز پارٹی اور حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ (ق) کے درمیان سیاسی اتحاد تشکیل دینے کی خبریں گردش کر رہی تھیں اور مبصرین کے بقول اس بات چیت کا بظاہر مقصدجون میں وفاقی بجٹ پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے دونوں ایوانوں میں حکمران اتحاد کی عددی برتری کو مستحکم کرنا ہے۔

پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کو پارلیمان میں سادہ اکثریت حاصل ہے لیکن اسے برقرار رکھنے کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کی حمایت ناگزیر ہے۔ ان دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے تعلقات حالیہ مہینوں میں کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور کراچی میں امن و امان کی صورت حال اس تناؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔

XS
SM
MD
LG