رسائی کے لنکس

ایم کیوایم کے وفد کی صدر زرداری سے ملاقات


ایم کیو ایم کے ارکان کی صدر زرداری سے ملاقات

ایم کیو ایم کے ارکان کی صدر زرداری سے ملاقات

پیر کو متحدہ قومی موومنٹ کے پانچ رکنی وفد نے ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے ایم کیوایم مخالف بیانات زیر بحث آئے۔ بات چیت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ صدر نے ایم کیوایم کو شکایات کے ازالے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ایم کیو ایم کے رہنماؤں کی صدر زرداری سے ملاقات سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے اُس بیان کے تناظر میں ہوئی جس میں اُنھوں نے کراچی میں پشتون اور دوسرے لسانی گروہوں کے کارکنوں کے قتل کے واقعات کا ذمہ دار متحدہ قومی موومنٹ کو ٹھہرایا تھا۔ ایم کیوایم نے اُن کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے بلواسطہ طور پر حکمران اتحاد سے الگ ہونے کی دھمکی دے رکھی تھی۔ تاہم پیر کو صدر کے ساتھ ملاقات کے بعد طرفین نے دونوں جماعت کے اتحاد سے متعلق خدشات کو رد کیا ہے۔

فاروق ستار کے بقول اس وقت ملک عدم استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا اور اُن کی جماعت ملک کے مفاد میں ہی فیصلے کر ے گی۔ تاہم اُنھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو ذوالفقار مرزا کے بیان کی وضاحت کے لیے ایم کیو ایم نے دسمبر کے آخری ہفتے تک کی جو مہلت دے رکھی ہے اُس میں اضافہ کیا جائے گایا نہیں۔ پریس کانفرنس میں اُن کے ساتھ موجود وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے بھی دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے اتحاد کو کو ئی خطرہ نہیں ہے۔

سندھ کے وزیر داخلہ کے ایم کیوایم مخالف بیان کے چند روز بعد پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت کی سیاسی مشکلات میں گذشتہ ہفتے اُس وقت اضافہ ہو گیا جب مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام نے اپنے ایک وزیر کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف احتجاجاً پیپلزپارٹی کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

مولانا فضل الرحمن کو حکمران اتحاد میں واپس لانے کے لیے پیپلزپارٹی کے اُن سے رابطے جاری ہیں لیکن تاحال اس بارے میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

XS
SM
MD
LG