رسائی کے لنکس

سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے کہا کہ کمیشن کی تشکیل پر اتفاق ایک مثبت پیش رفت ہے جو کہ جمہوریت کی مضبوطی کا سبب بنے گا۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) اور حزب مخالف کی ایک بڑی جماعت تحریک انصاف کے درمیان مئی 2013ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے ’عدالتی کمیشن‘ کے قیام پر اتفاق پر مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے اطمینان کا اظہار کیا گیا۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کئی ماہ تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد جمعہ کی شب ’عدالتی کمیشن‘ کی تشکیل پر اتفاق کیا گیا اور اس پیش رفت کا باضابطہ اعلان ایک نیوز کانفرنس میں کیا گیا۔

وفاقی وزیر خزانہ نے ہفتہ کو مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے اُنھیں کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے ہونے والی بات چیت سے آگاہ کیا۔

ایک سرکاری بیان کے مطابق اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ، چیئرمین سینیٹ رضا ربانی، جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق، ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار سمیت کئی دیگر سیاستدانوں سے رابطہ کر کے ’عدالتی کمشین‘ کی تشکیل پر طے پانے والے معاملات پرانھیں اعتماد میں لیا۔

سرکاری بیان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے کہا کہ کمیشن کی تشکیل پر اتفاق ایک مثبت پیش رفت ہے جو کہ جمہوریت کی مضبوطی کا سبب بنے گا۔

اُدھر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ہفتہ کو بنوں میں صحافیوں سے گفتگو میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر اتفاق کو ایک اہم کامیابی قرار دیا۔

’’اس سے پاکستان کی جمہوریت اب آگے بڑھے گی۔‘‘

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جمعہ کی شب کہا تھا کہ ’جوڈیشل کمیشن‘ کے حوالے سے چند الفاظ پر اختلافات تھے جو دور کر لیے گئے ہیں۔

پشاور میں اسکول پر دہشت گردوں کے مہلک حملے کے بعد عمران خان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے چار ماہ سے زائد عرصے سے جاری اپنا احتجاجی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جس کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے وفود کے درمیان ’عدالتی کمیشن‘ کی تشکیل کے لیے مذاکرات شروع ہوئے۔ دونوں جانب سے پہلے یہ کہا گیا کہ بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن بعد میں تحریک انصاف نے دعویٰ کیا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدگی سے آگے نہیں بڑھنا چاہتی۔

تحریک انصاف کا الزام ہے کہ مئی 2013ء کے عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کی گئی اور اسی بنا پر گزشتہ 14 اگست سے اس جماعت نے احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا۔

پارلیمان کے سامنے تحریک انصاف کا دھرنا چار ماہ سے زائد جاری رہا، اس دوران بھی حکومت اور عمران خان کی جماعت کے درمیان مصالحت کے لیے کوششیں ہوتی رہیں لیکن وہ کارگر ثابت نا ہوئیں۔

عمران خان کا پہلے یہ مطالبہ رہا کہ وزیراعظم نواز شریف استعفی دیں اور اس کے بعد انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرائی جائیں لیکن بعد میں وہ اپنے اس مطالبے سے کچھ پیچھے ہٹے۔

احتجاج کے دوران تحریک انصاف کے ارکان نے قومی اسمبلی سمیت پنجاب اور سندھ کی اسمبلیوں سے استعفے دے دیے تھے۔ لیکن خیبر پختونخواہ میں جہاں پی ٹی آئی برسر اقتدار ہے وہاں سے اس جماعت کے اراکین مستعفی نہیں ہوئے۔

XS
SM
MD
LG