رسائی کے لنکس

ریاست کے اندر ریاست ناقابل قبول، وزیراعظم گیلانی


وزیراعظم گیلانی قومی اسمبلی میں تقریر کررہے ہیں

وزیراعظم گیلانی قومی اسمبلی میں تقریر کررہے ہیں

پاکستانی وزیر اعظم نے یہ سخت بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب سپریم کورٹ میں میمو اسکینڈل کیس کی سماعت جاری ہے، جس میں سیاسی اور فوجی قیادت نے بالکل متضاد موقف اپنا رکھا ہے اور جس کی وجہ سے ریاست کے دونوں اداروں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کی طاقتور فوجی قیادت خصوصاً اس کے سراغ رساں ادارے آئی ایس آئی کو پہلی مرتبہ کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ریاست کے اندر ریاست قابل قبول نہیں ہوسکتی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں جمعرات کو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی بظاہر اس دھماکہ خیز تقریر کے بعد میمو اسکینڈل پر سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان کشیدگی کھل کر سامنے آگئی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا فوج کا ادارہ انتہائی قابل احترام ہے اورحکومت نے ممبئی حملے، اسامہ بن لادن کی ہلاکت اورپاکستانی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے جیسے واقعات میں فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ہر مشکل وقت میں حمایت کر کے فوج کی ساکھ کو ابھارا ہے نہ کہ کم کیا۔

اُنھوں نے کہا کہ مشکل ترین اقتصادی حالات کے باوجود ان کی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشاں اپنے فوجیوں کی تنخواہیں بھی دوگنی کردیں۔’’ لیکن ریاست کے اندر ریاست نہیں ہوسکتی اور نہ ہی یہ قابل قبول ہے۔ تمام ادارے پارلیمان کو جواب دہ ہیں اور کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں۔‘‘

پاکستانی وزیراعظم کا اشارہ بظاہر آئی ایس آئی کی طرف تھا جس نے مبینہ طور پر ملک میں سیاسی حکومتوں کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور فوجی بغاوتوں کی حوصلہ افزائی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے اس لیے ناقدین اسے ریاست کے اندر ریاست سے تشبیہہ دیتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پارلیمان کی متفقہ قرارداد کی روشنی میں اُنھوں نے ایبٹ آباد کمیشن تشکیل دیا تھا تاکہ اسامہ بن لادن کی طویل عرصے تک ملک میں موجودگی کی وجوہات کا پتا لگایا جاسکے۔ ’’لیکن اس مسئلے کو پس پشت ڈال کر اب حکومت سے امریکیوں کو پاکستان کے ویزے دینے کا حساب مانگا جا رہا ہے۔ ہم تو پوچھنا چاہتے ہیں کہ وہ (اسامہ بن لادن) کس ویزے پر آیا تھا۔‘‘

پاکستان کے سابق وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے حال ہی میں ایبٹ آباد کمیشن کے سامنے دیے گئے اپنے بیان کے ساتھ اطلاعات کے مطابق بعض دستاویزات بھی پیش کی ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ واشنگٹن میں سابق سفیر حسین حقانی وزیر اعظم گیلانی کی ہدایت پر ملک کے سکیورٹی اداروں کے علم میں لائے بغیر امریکی حکام کو ویزے جاری کرتے رہے۔

لیکن حکومت اور حسین حقانی ان الزامات کی تردید کرچکے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اجلاس سے پہلے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں بھی وزیر اعظم نے کہا کہ سازشی عناصر ان کی حکومت کا بوریا بسر گول کرانے کی سازشیں کررہے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم نے یہ سخت بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب سپریم کورٹ میں میمو اسکینڈل کیس کی سماعت جاری ہے، جس میں سیاسی اور فوجی قیادت نے بالکل متضاد موقف اپنا رکھا ہے اور جس کی وجہ سے ریاست کے دونوں اداروں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

جنرل اشفاق پرویز کیانی مبینہ صدارتی خط کو ایک حقیقت قرار دے کر اس کی تحقیقات پر اصرار کر رہے ہیں جب کہ آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل احمد شجاع پاشا نے بھی عدالت عظمیٰ کو پیش کیے گئے اپنے بیان یہی مؤقف اختیار کیا ہے۔ لیکن وزیر اعظم گیلانی کی حکومت میمو کو غیر اہم قرار دے کر مسترد کر چکی ہے کیونکہ اس اسکینڈل کا انکشاف کرنے والا امریکی شہری منصور اعجاز بقول پاکستانی عہدیداروں کے قابل بھروسہ نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG