رسائی کے لنکس

تحریک انصاف کی جانب سے مذاکراتی وفد کے سربراہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ان کے مطالبات ماورائے آئین نہیں بلکہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے نئے انتخابات کے لیے ایک غیرجانبدار نگراں حکومت کا قیام ممکن ہے۔

دارالحکومت میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے احتجاجی دھرنے سے پیدا ہونے والے سیاسی بحران کے حل کے لیے حکومتی مذاکراتی وفد کا ہفتہ کو تحریک انصاف سے ایک مقامی ہوٹل میں بات چیت کا تیسرا دور ہوا۔

جمعے کو رات دیر گئے ہونے والی بات چیت میں، مذاکرات میں شامل عہدیداروں کے مطابق فریقین میں مطالبات اور ان پر ایک دوسرے کے جوابات کا تبادلہ ہوا۔

وزیراعظم نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف کی وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے سے استعفے اور نئے انتخابات کے مطالبات پر دونوں فریقین کی طرف سے بظاہر کوئی پیش رفت نہیں بتائی جارہی تاہم مقامی ذرائع ابلاغ میں مختلف آپشنز پر چہ مگوئیاں ہورہی ہے۔

تحریک انصاف کی جانب سے مذاکراتی وفد کے سربراہ شاہ محمود قریشی کہتے ہیں کہ ان کے مطالبات ماوائے آئین نہیں بلکہ دونوں فریقین کے درمیان بات چیت کے ذریعے نئے انتخابات کے لیے ایک غیرجانبدار نگراں حکومت کا قیام ممکن ہے۔

’’30 ممبران عدم اعتماد کر سکتے ہیں؟ تو یہ تو مذاق ہے نا۔ عوام سے مذاق اب چھوڑ دیں۔ اب قوم تقسیم ہورہی ہے۔ ایک طرف اشرافیہ ہے جو کہ اپنے مفادات کا دفاع کررہے ہیں اور دوسری طرف عوام کھڑی ہوگئی ہے۔ کچھ انہیں سپورٹ کرتے ہیں اور کچھ نئے پاکستان کے لیے عوام کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ دھرنوں کا یہ سلسلہ صرف اسلام آباد تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے ملک میں پھیلے گا۔

پارلیمان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں پارلیمان میں وزیراعظم کے استعفے اور قومی اسمبلی کی تحلیل کے خلاف قراردادوں کی حمایت کر چکی ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی فوج کے سربراہ سے رواں ہفتے ملاقات ہوئی جس میں فوجی حکام کے مطابق جنرل راحیل شریف نے بامعنی مذاکرات پر زور دیا۔

ادھر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) اور ان کی چند اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کی طرف سے اس سیاسی بحران کے پیچھے غیر ملکی طاقتوں کے ہاتھ ہونے کے بیانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ تاہم امریکی سفارتخانے کے ایک بیان میں وضاحت کی گئی کہ امریکہ کا اس عمل یا مذاکرات میں کوئی عمل دخل نہیں۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال کے بقول موجودہ سیاسی بحران کا مقصد سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت حاصل کرنا ہے۔

’’مشرف کا ایک نیٹ ورک جس میں ان کے ساتھ کام کرنے والے شامل ہوسکتے ہیں جو ایک سازش کررہے ہیں۔ لیکن یہ ناکام ہوں گے کیونکہ پاکستان کے تمام آئینی و ریاستی اداروں کا اور سول سوسائٹی کا اتفاق ہے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت میں ہے۔‘‘

تحریک انصاف اپنے قانون سازوں کے استعفے قومی اسمبلی میں جمع کروا چکی ہے۔ ابھی تک اسپیکر قومی اسمبلی نے انہیں قبول نہیں کیا۔ کئی سیاسی جماعتوں کے رہنما عمران خان کو اس فیصلے پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG