رسائی کے لنکس

'احتجاج میں رکاوٹ ڈالی تو حالات کے ذمہ دار نواز شریف ہوں گے'


فائل فوٹو

فائل فوٹو

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں سب کو احتجاج کا حق ہے لیکن کسی کو بھی کوئی شہر بند کر کے شہریوں کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے خود پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج کرنا ان کا جمہوری حق ہے اور اگر حکومت کی طرف سے اس میں رکاوٹ ڈالی گئی تو حالات کے ذمہ دار وزیراعظم نواز شریف ہوں گے۔

عمران خان نے پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم سے خود کو احتساب کے لیے پیش کرنے یا مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کر رکھا ہے کہ بصورت دیگر ان کی جماعت دو نومبر کو وفاقی دارالحکومت میں بڑا احتجاجی دھرنا دیتے ہوئے شہر کو بند کر دے گی۔

احتجاج کے اس اعلان پر انھیں حکومت سمیت حزب مخالف کی بعض دیگر جماعتوں کی طرف سے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے میں جب سپریم کورٹ اس معاملے پر یکم نومبر کو کارروائی شروع کرنے جا رہی ہے، سڑکوں پر احتجاج درست نہیں ہے۔

حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر راہنما اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ شہر کو بند کرنے جیسے احتجاج کی باتوں سے تصادم کا خطرہ ہوتا ہے اور ان کی جماعت کسی بھی طرح کا تصادم نہیں چاہتی۔

لیکن عمران خان کا اصرار ہے کہ اپریل میں پاناما لیکس کے انکشافات کے بعد سے اس کی تحقیقات کے بارے میں ان کے موقف کو نہ سنے جانے پر پی ٹی آئی کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کا نام نہیں ہے لیکن عمران خان احتجاج کی آڑ میں مبینہ طور صرف انھیں اقتدار سے ہٹانے کی کوشش میں لگے ہیں جس سے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں سب کو احتجاج کا حق ہے لیکن کسی کو بھی کوئی شہر بند کر کے شہریوں کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے ایک راہنما اور پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا۔

"کسی کو ہم قانون ہاتھ میں نہیں لینے دیں گے نہ کوئی شہر بند کرنے دیں گے نہ ان کو شہریوں کا آئینی و قانونی حق صلب کرنے دیں گے۔"

سینیئر تجزیہ کار عارف نظامی کہتے ہیں کہ حکومت نے بھی حزب مخالف کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام نہیں لیا اور عمران خان جس طرح حکومت مخالف احتجاج کر رہے ہیں اس سے پاکستان کی تاریخ کے تناظر میں کسی کو فائدہ نہیں ہوگا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ "میرا نہیں خیال کہ حقیقی طور پر کوئی تیسری قوت آجائے گی اگر اصولی طور پر دیکھا جائے وزیراعظم کی کارکردگی بھی اتنی نہیں رہی جتنا وہ دعویٰ کرتے ہیں لیکن کسی بھی جمہوری حکومت کو سڑکوں کے ذریعے نکالنے کی روایت کی حمایت نہیں کی جا سکتی کیونکہ یہ ایک غلط روایت ہو گی۔"

دیگر سیاسی مبصرین کی طرح عارف نظامی کا بھی یہ کہنا تھا کہ عمران خان کو سپریم کورٹ میں یہ معاملہ شروع ہونے کے بعد وہاں بھرپور طریقے سے اپنے موقف کا دفاع کرنا چاہیے اور احتجاج کو ملتوی کر دینا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG