رسائی کے لنکس

پاکستان کو نقصان پہنچانے والے ناکام ہوگئے: وزیراعظم


وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

وزیراعظم نواز شریف (فائل فوٹو)

سینیئر تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے کہا کہ معاملات ایک جگہ پر آکر رک گئے ہیں اور دونوں جانب سے اس میں کسی پیش رفت کا کوئی واضح امکان بھی دکھائی نہیں دے رہا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے امریکہ کے سفر پر ہیں۔ بدھ کو لندن سے نیویارک روانگی سے قبل صحافیوں سے مختلف گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ان کے خلاف احتجاج کرنے والے ان کے بقول پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکام ہوچکے ہیں۔

"ہم نے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے ۔جو چاہتے تھے کہ پاکستان کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیں ان کی کوششیں ناکام ہوئی ہیں۔"

تحریک انصاف کے عمران خان اور عوامی تحریک کے طاہرالقادری کے احتجاجی مارچ اور دھرنوں کو حکومت سمیت بعض دیگر حلقے ایک مبینہ سازش کا نتیجہ قرار دیتے آرہے ہیں جو ان کے بقول لندن میں تیار کی گئی جس کا مقصد ملک میں افراتفری پیدا کرنا تھا۔ وزیراعظم نے بھی کہا کہ مبینہ لندن پلان ناکام ہو گیا ہے۔

لیکن یہ دونوں جماعتیں ایسی کسی بھی سازش کے وجود سے انکار کرچکی ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ان کا احتجاج ملک سے دھاندلی کی سیاست اور ان کے بقول بدعنوان حکومت کا خاتمہ ہے۔

چالیس روز سے زائد ہو چلے ہیں اور اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے ان دونوں جماعتوں کا احتجاج جاری ہے اور دونوں جماعتیں اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنے جاری رکھنے کا اعلان کر چکی ہیں۔

لیکن حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج کرنے والی جماعتیں معاملات کو بلا جواز طول دے رہی ہیں جب کہ حکومت ان کے وہ تمام مطالبات جو آئین و قانون کے دائرے میں آتے ہیں ماننے پر رضا مندی ظاہر کر چکی ہے۔

ان جماعتوں نے عام انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کر کے حکومت بنانے کی وجہ سے وزیراعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رکھا ہے جسے حکومت اور پارلیمان میں موجود دیگر سیاسی جماعتیں مسترد کر چکی ہیں۔

عمران خان اپنے اس احتجاج کو ملک کے مختلف حصوں تک پھیلانے کا اعلان کرتے ہوئے گزشتہ اتوار کراچی میں ایک جلسہ کر چکے ہیں جب کہ 28 ستمبر کو ان کی جماعت لاہور میں جلسہ کرنے جا رہی ہے۔

حکومت اور احتجاجی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے معاملے کو حل کرنے کی متعدد کوششیں ناکام ہوچکی ہے جب کہ مبصرین بھی اب اس خیال کا اظہار کر رہے ہیں کہ احتجاجیوں کو اپنے طرز احتجاج پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔

سینیئر تجزیہ کار حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ معاملات ایک جگہ پر آکر رک گئے ہیں اور دونوں جانب سے اس میں کسی پیش رفت کا کوئی واضح امکان بھی دکھائی نہیں دے رہا۔

"دھرنوں کی افادیت تقریباً ختم ہو گئی ہے، چیزیں ایک جگہ پر آکر رک گئی ہیں، آگے نہیں بڑھ رہیں اگر دونوں پارٹیاں اپنی سیاسی جدوجہد کو جاری رکھنا چاہتی ہیں تو نئے انھیں نئے طریقے اختیار کرنے پڑیں گے ورنہ دھرنوں سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔"

ادھر حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سیاسی کشیدگی سے ملک کو اب تک چھ ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔

XS
SM
MD
LG