رسائی کے لنکس

ایوان کے اندر حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن اور ایوان کے باہر تحریک انصاف ، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے حکمت عملی مرتب کر رکھی ہے

توہین عدالت کیس میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کےپاس اپیل کیلئےصرف ایک دن بچا ہے۔ وزیراعظم اپیل کریں گے یا نہیں؟ اس سوال پر شاید حکمراں جماعت پیپلزپارٹی بھی الجھن کا شکار ہے۔ اگر وزیراعظم نے اپیل نہ کی تو پھر اپوزیشن کیا کرے گی ؟

26اپریل کو سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو این آر او پرعملدرآمد سے متعلق مقدمے میں عمل نہ کرنے اور توہین عدالت کا مرتکب ہونے پر تیس سکینڈ کی سزا سنائی تھی۔ وزیراعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزازاحسن کا کہنا تھا کہ فیصلے کے خلاف اپیل کی جائے گی ۔یہ اپیل ایک ماہ کے اندر اندر کی جانی تھی اور ہفتہ 26 مئی کو یہ وقت پورا ہو جائے گا۔ مقررہ وقت سے دو روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نےرولنگ جاری کر دی کہ توہین عدالت کیس میں سزا یافتہ وزیراعظم کو آئین کے آرٹیکل ترسٹھ ون جی کے تحت پارلیمنٹ سے نا اہل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔

اس حوالے سے جمعہ کو وزیراعظم سے اسلام آباد میں سپریم کورٹ بار کے صدر یاسین آزاد، احسن بھون ایڈووکیٹ ، سابق وزیر قانون خالد رانجھا اور فواد چوہدری وغیرہ نے ملاقات کی اور اس معاملے پر مشاورت کی گئی کہ اپیل کی جائے یا نہیں ۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ لیگل ٹیم نے 147 صفحات پر مشتمل اپیل تیار کر رکھی ہے۔ وزیراعظم کے خلاف فیصلہ سپریم کورٹ کے ٹرائل بینچ کا ہے، اپیلٹ بینچ کا نہیں، حکومت کو پارلیمان کی دوتہائی اکثریت کی حمایت حاصل ہے، صرف ایک جماعت کے ارکان وزیراعظم کی نااہلی کے لئے شورشرابہ کررہے ہیں، اسپیکرقومی اسمبلی کی رولنگ کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجاسکتا۔

وزیراعظم کی رولنگ کے بعد یہ تاثر ابھرنے لگا ہےکہ شاید توہین عدالت کیس میں اپیل نہ کی جائے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایوان کے اندر حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن اور ایوان کے باہر تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں نے حکمت عملی مرتب کر رکھی ہے کہ اگر اپیل کا فیصلہ وزیراعظم کے خلاف آتا ہے تو پھر دھڑم تختہ بھی ہو سکتا ہے۔

دوسری صورت میں پیپلزپارٹی کو اس لئے بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں کہ اگراپیل میں وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو تمام حزب اختلاف کی قوتیں متحد ہو سکتی ہیں اور یہ اتحاد آئندہ انتخابات پر بھی اثر اندازہو سکتا ہے اس لئے اپیل کرکے پیپلزپارٹی انہیں ایسا کوئی بھی موقع فراہم نہیں کر سکتی۔ لیکن دوسری طرف بعض حلقوں کا یہ خیال بھی ہے کہ پیپلزپارٹی اس کھیل کو یوں ادھورا نہیں چھوڑ سکتی اور انہیں ہر صورت اپیل دائر کرنی ہوگی۔

انتخابات کا وقت سر پر آن پہنچا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں اندرون و بیرون سطح پر ملک مختلف مشکلات کا شکار ہے اور پیپلزپارٹی کوانتخابات میں عوام کی ہمدردیاں ہی مثبت نتائج دلاسکتی ہیں۔ پیپلزپارٹی نے اس وقت اپنا ووٹ بینک مضبوط کرنے کیلئے جنوبی پنجاب پر خاص توجہ دے رکھی ہے ۔ اسی وجہ سے اعلان کیا گیا ہے کہ سرائیکی صوبہ اسی حکومت میں بن کر رہے گا ۔ جو بظاہر ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ اگر ایسا ہوا تو مہاجرصوبہ، ہزارہ صوبہ اور دیگر صوبوں کے مطالبات کوئی اور صورت بھی اختیار کر سکتے ہیں ۔

اگر وزیراعظم کو سزا ہو جاتی ہے تو پھر پیپلزپارٹی یہ جواز پیش کر سکتی ہے کہ سرائیکی صوبہ تو بن جاتا لیکن سرائیکی وزیراعظم ہی کسی نے نہیں رہنے دیا، لہذا آئندہ انتخابات میں عوام ووٹ دیں ، ان کا مطالبہ پورا ہو جائے گا ۔ لہذا اگر وزیراعظم اپیل نہیں کرتے تو پھر معاملہ یہیں دب جائے گا اور آئندہ انتخابات میں اپوزیشن کئی اہم ایشوز پر عوام کی توجہ حاصل کر سکتی ہے ۔ جس میں لوڈ شیڈنگ سب سے اہم ہے۔

پیپکو کے مطابق ملک میں اس وقت ساڑھے سات ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی ہے اور حکومت کے پاس فوری طور پر کوئی منصوبہ نظر نہیں آتا جس سے اس پر نگراں حکومت کے قیام سے قبل اس مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت کے پاس پھر لوڈ شیڈنگ ہی ایک ایسا مسئلہ باقی رہ جائے گا جس پر وہ اپنی سیاست کر سکے اور آئندہ انتخابات کیلئے عوام کی توجہ حاصل کر سکے ۔

XS
SM
MD
LG