رسائی کے لنکس

ناقص طرز حکمرانی پر حکومت کو تنقید کا سامنا

  • حسن سید

ناقص طرز حکمرانی پر حکومت کو تنقید کا سامنا

ناقص طرز حکمرانی پر حکومت کو تنقید کا سامنا

اٹھارویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد حکومت کی طرف سے اس عزم کا اظہار کیا جارہا ہے کہ وہ عوام کو درپیش مسائل کے حل پر بھرپور توجہ مرکوز کرے گی جن میں توانائی کا بحران ،مہنگائی اور بے روزگاری سر فہرست ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ناقدین اس تشویش کا اظہار بھی کررہے ہیں کہ اس ترمیم کے تناظر میں حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے درمیان پایا جانے والا تناؤ ایک اچھے نظام حکومت کی روح کے منافی ثابت ہوسکتا ہے۔

اسلام آباد میں ”گڈ گورننس اور پائیدار ترقی“ کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کے بعد وائس آف امریکہ سے گفتگو میں حزب مخالف مسلم لیگ ن کے ایک رہنماء احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس ایک اچھے طرز حکمرانی اور مئوثر انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے کوئی وژن یا حکمت عملی ہی نہیں دکھائی دیتی۔

جب کہ حکمران پاکستان پیپلز پارٹی کی ایک رہنماء پلوشہ بہرام اس تنقید کو مسترد کرتی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت ایک مستعد نظام قائم کرکے عوام کو درپیش مسائل حل کرنے میں پوری طرح سنجیدہ اور مخلص ہے۔

اپنے انٹرویو میں انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ملک میں طرز حکمرانی کے حوالے سے اگرچہ مسائل موجود ہیں لیکن پلوشہ کے مطابق یہ انتے گہرے اور دیرینہ ہیں صرف پیپلز پارٹی کو ہی اس کا ذمے دار ٹھہرانا یا ان کو رات و رات حل کرنے کی توقع کرناغیر منصفانہ ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ نظام حکومت میں درپیش بہت سے مسائل حل نہ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ کافی عرصے سے کسی حکومت کو پارلیمان میں واضح برتری حاصل نہیں ہوسکی اور حکومتوں کے مخلوط ہونے کی وجہ سے اتفاق رائے میں دشواری کا سامنا رہا۔ پلوشہ کی رائے میں طرز حکمرانی کو مئوثر اور شفاف بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اتحادی جماعتوں سمیت تمام سیاسی جماعتیں یکجا ہو کر اور اپنے سیاسی مفادات پس پشت ڈال کر بتدریج مسائل کو حل کریں۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن پروفیسر فرزانہ باری کہتی ہیں کہ اچھے نظام حکومت میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ جاگیردار،سرمایہ دار اور قبائلی رہنماء ہیں جن کی ایوان اقتدار میں اجارہ داری رہی ہے اور انھوں نے فرازنہ باری کے بقول ہمیشہ اپنے مفادات کا تحفظ کیا ۔ وہ الزام عائد کرتی ہیں کہ ان ”زورآور عناصر“ نے اٹھارویں ترمیم کے تحت بھی اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے اور عوامی نمائندوں کو اپنے ضمیر کے مطابق رائے دہی سے محروم کرنے کی کوشش کی ہے۔

منصوبہ بندی اور ترقیاتی امور کی ماہر ڈاکٹر ثانیہ مرزا کے مطابق گورننس یا طرز حکمرانی سے متعلق بہت سے مسائل ایسے ہیں جو وراثتی ہیں اور موجودہ حکومت پر اس کا الزام عائد کرنا مناسب نہیں ہوگا تاہم ان کی رائے میں ایک اچھے طرز حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک دیانتدار قیادت پختہ سیاسی عزم کا مظاہرہ کرے۔

احسن اقبال کے مطابق مئوثر طرز حکمرانی کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ تمام ریاستی ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کریں اور قانون کا احترام کریں تاکہ آپس میں تصادم نہ ہو۔انھوں نے کہا ”ہم امید کرتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے تناظر میں کوئی ایسا فیصلہ نہیں دے گی جو آئینی مسائل کو جنم دے “۔

XS
SM
MD
LG