رسائی کے لنکس

مزید علاقوں میں بھی فوج طلب کی جا سکتی ہے: ڈپٹی اسپیکر


فائل فوٹو

فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف کے مطابق فوج کو طلب کرنا حکومت کی ناکامی اور فوج کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کے مترادف ہے۔

پاکستان میں آئندہ عام انتخابات کو شفاف و آزادانہ بنانے پر غور و خوض کے لیے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر متشمل 33 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا باقاعدہ اعلان کردیا گیا ہے جبکہ سندھ کے ایک صوبائی حلقے میں مرکز کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کامیاب امیدوار کے نتیجے کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے امیدوار کی درخواست پر کارروائی میں یہ بات سامنے آئی کہ کراچی کے اس حلقے میں 17 ہزار سے زائد جعلی ووٹ ڈالے گئے تھے۔

ادھر اسلام آباد میں سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے فوج طلب کرنے کے نواز انتظامیہ کے فیصلے کی مخالفت میں اضافہ ہورہا ہے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بعد قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپنی کور کمیٹی کے اجلاس میں اسے مسترد کردیا۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فوج کو طلب کرنا حکومت کی ناکامی اور فوج کو سیاسی معاملات میں گھسیٹنے کے مترادف ہے۔

تاہم مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کا وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہنا تھا کہ شمالی وزیرستان میں فوجی کارروائی کے ردعمل میں اسلام آباد میں شدت پسندوں کی ممکنہ کارروائیوں کے پیش نظر ایسا کیا گیا اور ملک کے دیگر شہروں میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔

’’اگر خیبرپختونخواہ کی حکومت کو فوج کی ضرورت ہے پشاور میں دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تو بالکل ہماری حکومت کو کوئی آر نہیں فوج کو وہاں بھیجنے میں۔ یہ ہماری فوج ہے۔ یہ عوام کے جان و مال اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہے۔‘‘

عمران خان کی تحریک انصاف گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے تمام ووٹوں کی جانچ پڑتال کا مطالبہ کرتی آئی ہے اور اس پر عمل درآمد کے لیے یوم آزادی پر اسلام آباد میں احتجاجی ریلی کا اعلان کر چکی ہے۔ دوسری جانب حکومت بھی دارالحکومت ہی میں یوم آزادی کی تقریبات منعقد کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔

مرتضیٰ عباسی کا کہنا تھا کہ القاعدہ سے منسلک عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے پیش نظر ملک کی موجودہ سلامتی کی صورتحال کسی سیاسی ریلی یا احتجاج کی اجازت نہیں دیتی۔

’’ایک سیاسی جماعت جس کے پاس صرف ایک صوبے میں مینڈیٹ ہے۔ وفاق میں ان کی اکثریت کی شرح آپ نکال لیں اس کی ضد کی وجہ سے حکومت یوم آزادی کا دن چھوڑ دے۔ وہ کوئی اور دن رکھ لیتے۔ ہم کس طرح اجازت دے سکتے کہ وہ اس دن اتنے لوگ لے کر اسلام آباد آئیں۔‘‘

دیگر بڑی سیاسی جماعتیں تحریک انصاف کے مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے نواز انتظامیہ کی طرف سے دھاندلیوں کے الزامات کی تحقیقات نا کروانے پر تشویش کا اظہار کر چکی ہے۔

تحریک انصاف کے قانون ساز محمد علی خان کا اس بارے کہنا تھا کہ ’’یہ کمیٹی تو مستقبل کے انتخابات کے بارے میں کام کرے گی کہ قانون سازی کس طرح ہو، الیکشن کمیشن کس طرح بنے۔ ہم تو کہتے ہیں جو بڑے پیمانے پر دھاندلیاں ہوئی ہیں ان کی تحقیقات تو ہوں پہلے اور کسی کو سزا ملے۔‘‘

الیکشن کمیشن کے عہدیداروں کے مطابق کمیشن کی طرف سے بھی ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے جس میں انتخابی عمل کو شفاف اور غیر متنازع بنانے کے لیے تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

XS
SM
MD
LG