رسائی کے لنکس

متحدہ کی علیحدگی کے بعد سیاسی درجہ حرارت عروج پر


متحدہ کی علیحدگی کے بعد سیاسی درجہ حرارت عروج پر

متحدہ کی علیحدگی کے بعد سیاسی درجہ حرارت عروج پر

ملک میں جہاں ایک جانب شدید گرمی اور طویل لوڈ شیڈنگ سے عوام بے حال ہے وہیں سیاسی درجہ حرات بھی عروج پر پہنچ چکا ہے اور لوگ محکمہ موسمیات کی طرح اب سیاسی جماعتوں اور تجزیہ کاروں پر بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ، انہیں تو بس بارش کا انتظار ہے ۔

پیر کوجیسے ہی متحدہ قومی موومنٹ نے حکومت سے علیحدگی کا اعلان کیا ،دیگر سیاسی جماعتیں بھی حرکت میں آگئیں۔ کہیں تو متحدہ کو اپوزیشن کی جانب سے خوش آمدید کہا جا رہا ہے تو کہیں انہیں منانے کیلئے مفاہمت کے جادوگر رحمن ملک سمیت مختلف وزراء میدان میں کود پڑے ۔ اس تمام تر صورتحال میں مسلم لیگ ق کیسے چپ رہ سکتی تھی لہذا چوہدری شجاعت کی پھرتیاں بھی قابل دید رہیں ۔انہوں نے سب سے پہلے الطاف حسین کو ٹیلی فون کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ان کے پاس ایسی گیدڑ سنگھی ہے کہ بارہ گھنٹے میں تمام مسائل حل کر لیں گے ، اس کیلئے اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ ہے وقت ۔

اگر چہ صدر زرداری ایوان صدر میں موجود نہیں اس کے باوجود یہ گھر حبس اور لو سے محفوظ نہیں رہ سکا اورصدر کے ترجمان کی جانب سے درخواست کی گئی کہ گورنر سندھ اپنے مستعفی ہونے کے فیصلے پرنظر ثانی کریں۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن اس تمام تر صورتحال میں کافی خوش نظر آ رہی ہے اور اپوزیشن کے پلڑے میں ایم کیو ایم کے وزن کا خیر مقدم کر رہی ہے ۔ احسن اقبال کا کہنا ہے کہ حقیقی اپوزیشن سے مسائل کا حل ممکن ہے۔

ان سے سے ہٹ کر ٹی وی چینلز اس ماحول کو مزید گرم کرنے میں مصروف ہیں اور پاکستان کے سیاسی مستقبل پر بحث و مباحثہ جاری ہے ، سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایم کیو ایم اپنے فیصلے پرقائم رہ سکے گی؟ اور اگر ایسا ہوا تو کیا مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم اپوزیشن میں مشترکہ کردار ادا کر سکیں گی؟ کیونکہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف سمیت دیگر رہنما ؤں نے کشمیر کے قانون ساز انتخابات میں بھی ایم کیو ایم پر کھل کر تنقید کی ہے جبکہ دوسری جانب سے بھی اسی طرح کا رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔

ادھر خبر یہ بھی ہے کہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان جولندن روانہ ہوچکے ہیں جبکہ صدر زرداری پہلے سے لندن ہی میں براجمان ہیں لہذادونوں جماعتوں کے درمیان ملاقات بھی خارج از امکان نہیں اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو پھر یہ ممکن ہے کہ پاکستان کی حدود سے نکل جانے والی مفاہمت کو لندن میں قابو کیا جاسکے ۔

بہرحال اس تمام تر صورتحال میں عوام محکمہ موسمیات کی طرح سیاسی جماعتوں کی بیان بازی اور سیاسی تجزیہ کاروں پر بھی یقین رکھنے کو تیار نہیں ۔ جون کے اوائل میں جب کراچی سمیت ساحلی علاقوں میں خوب گرمی تھی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ عروج پر تھی تو محکمہ موسمیات نے خوش خبری سنائی کہ آٹھ جون سے ساحلی علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ، پوراجون ختم ہونے کو ہے مگر تاحال اس سلسلے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ گزشتہ سال بھی ان کی اسی پیشن گوئی پر حکومت سندھ نے تمام تعلیمی ادارے بند کر دیئے تھے ، مگردونوں بار مجال ہے کہ بارش کا ایک قطرہ بھی گرا ہو ۔

عوامی حلقوں کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتوں اور محکمہ موسمیات کا کوئی یقین نہیں ، ایم کیو ایم پہلے بھی حکومت سے الگ ہوئی اور پھر ساڑھے پانچ ماہ بعد چپکے سے حکومت میں شامل ہو گئی ، ق لیگ کب ”قاتل “ بنی اور پھر کب ”قریب“ ہوئی کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔عوام کو تو بس اس دن کا انتظار ہے جب اچانک سے باران رحمت ہو جائے تاکہ کچھ وقت کے لئے وہ سیاسی و موسمی گرمی اور لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا پاکر کچھ دیر کیلئے انجوائے کر سکیں ۔

XS
SM
MD
LG