رسائی کے لنکس

آئندہ ہفتے میانوالی میں جلسہ ہوگا: عمران خان


فائل

فائل

مینارِ پاکستان لاہور کے سبزہ زار پر منعقدہ یہ ایک بہت بڑا جلسہ تھا۔ ادھر، وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ’جمہوری طریقے کی بجائے تشدد کے ذریعے تبدیلی کا راستہ اختیار کرنے والوں کو خود بھی اس تشدد کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے‘

پاکستان تحریک انصاف نے اتوار کو لاہور میں تاریخی مینارِ پاکستان کے سبزہ زار پر ایک بہت بڑے جلسے کا انعقاد کیا، جس میں لوگوں کی غیرمعمولی تعداد شریک تھی۔

جلسے سے خطاب میں، عمران خان نے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک وزیر اعظم نواز شریف استعفیٰ نہیں دیں گے، وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ تاہم، اُن کے بقول، نواز شریف ’تھوڑا دیر سے استعفیٰ دیں، تاکہ میں اپنا پیغام پاکستان کے کونے کونے تک پہنچا دوں۔‘

بقول اُن کے، ’یہ پاکستانیوں کا بنیادی حق ہے کہ وہ اپنے ووٹ سے اپنے لیڈروں کو الیکٹ کریں۔ یہ آپ نے لوگوں کا بنیادی حق چوری کیا۔ اور جب تک مجھے انصاف نہیں ملے گا، نواز شریف تم آرام سے حکومت نہیں کرسکو گے۔ آپ کو استعفیٰ بھی دینا پڑے گا۔ جنھوں نے آپ کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام کا مینڈیٹ چوری کیا۔ اُن سب کو ہم جیلوں میں ڈلوائیں گے، تاکہ آگے سے کسی کی جراٴت نہ ہو کہ پاکسانی قوم کا مینڈیٹ چوری کرے۔ تاکہ کوئی دھاندلی نہ کرسکے۔‘

لاہور میں عمران خان کا یہ تیسرا بڑا جلسہ تھا، جس سے خطاب اُن کی گذشتہ تقاریر سے اِس لحاظ سے بھی مختلف تھا کہ انھوں نے دھمکی آمیز لہجے سے پرہیز کرتے ہوئے، اپنے مطالبات کو دہرایا۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے میانوالی اور بعد میں ملتان میں احتجاجی جلسے کریں گے۔

عمران خان کا موٴقف ہے کہ مسلم لیگ ن گزشتہ عام انتخابات میں مبینہ طور پر دھاندلی کرکے حکومت میں آئی ہے۔

اس کے علاوہ طاہرالقادری کی جماعت پاکستان عوامی تحریک بھی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ایک ماہ سے زائد عرصے سے اسلام آباد میں دھرنا دیے ہوئے ہے اور وہ بھی وزیراعظم سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کرتی آرہی ہے۔

حکومت اور پارلیمان میں موجود دیگر سیاسی جماعتیں دھرنوں کی بنیاد پر وزیر اعظم کو گھر بھجوانے کی کوششوں اور مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے، معاملات کو مذاکرات سے حل کرنے کی کوششیں کر چکی ہیں۔ لیکن، ایسی تمام کاوشیں بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔

وفاقی وزیراطلاعات پرویز رشید نے اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بار پھر وزیراعظم کے مستعفی ہونے کو ’خارج از امکان‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو جمع کر کے منتخب حکومت کو گھر بھیجنے کی روایت نہیں ڈالنے دی جائے گی۔

" اگر آپ لوگوں کی تربیت یہ کریں کہ وہ جمہوری طریقے سے تبدیلی کا طریقہ اختیار نہ کریں بلکہ تشدد کے ذریعے تبدیلی کا راستہ اختیار کریں تو یہ تشدد آپ کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے اور آپ کو خود اس کے نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہیں ہم اس کلچر کو پروموٹ نہیں کر نا چاہتے ہم نے ہمیشہ وسعت قلبی سے اپنے مخالفین کی باتوں کو سنا ہے۔"

مبصرین اس سیاسی کشیدگی کو عمران خان کے جلسوں کے تناظر میں مزید بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے اب صورتحال مزید مشکل ہو سکتی ہے۔

سینیئر تجزیہ کار سجاد نصیر نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا۔ "عام طور پر تو یہ ہوتا ہے کہ جب آپ شہری علاقوں میں رائے عامہ کو بیدار کر لیتے ہیں تو پھر آپ دارالحکومت کی طرف جاتے ہیں لیکن لگتا ہے کہ یہ مخالف ترتیب سے ہو گیا ہے۔ اور اب یہ رائے عامہ کی بیداری جو شروع ہوئی ہے وہ تو ایک قسم کی ایک انتخابی مہم ہو گئی ہے اگر لاہور کا جلسہ جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں ویسا ہو گیا تو اس قسم کی کیفیت کا ماحول پیدا ہو گیا ہے جس سے مجھے ایسا لگتا ہے کہ حکومت معدوم ہو گئی ہے۔"

اسی دوران وزیراعظم نواز شریف اور ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف سمیت متعدد وفاقی وزرا کے خلاف اپنے کارکنوں کی ہلاکت کے واقعات پر یہ دونوں جماعتیں مقدمات بھی درج کروا چکی ہیں۔

تحریک انصاف کی طرف سے سپریم کورٹ میں وزیراعظم کی نااہلی کے لیے ایک درخواست بھی دائر کی جاچکی ہے جس کی سماعت پیر سے شروع ہوگی۔

XS
SM
MD
LG