رسائی کے لنکس

حلیف جماعتوں کے خدشات دو ر کرنے کے لیے رابطے جاری


مولانا فضل الرحمن، یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری (فائل فوٹو)

مولانا فضل الرحمن، یوسف رضا گیلانی اور آصف علی زرداری (فائل فوٹو)

پیپلز پارٹی کے اپنی حلیف جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور صدر آصف علی زرداری کراچی میں ہیں جہاں اُنھوں نے ایک روزقبل سندھ کے گورنر عشرت العباد سے بھی ملاقات کی جب کہ بدھ کی صبح وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے جمعیت علماء اسلام کے امیر فضل الرحمن سے ملاقات کر کے اُن کے خدشات دور کرنے کی کو شش کی۔

وفاقی وزیر اطلاعا ت قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ حکومت اپنی اتحادی جماعتوں کے خدشات کو دو ر کرنے کے لیے اُن سے مسلسل رابطے میں ہے اور اُنھیں توقع ہے کہ آئندہ چند روز میں اس بارے میں مثبت پیش رفت ہو گی۔

اُنھوں نے یہ بیان بدھ کو وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیا ۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ موجودہ حالات حکومت کے لیے پریشان کن نہیں ہے کیوں کہ پیپلزپارٹی نا صرف اپنی حلیف جماعتوں بلکہ حزب اختلاف کی پارٹیوں کو بھی تمام معاملات پر ساتھ لے کر چلنے کی اپنی پالیسی پر کاربند ہے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت کی مشکلات میں اُس وقت اضافہ ہوا جب دسمبر کے وسط میں سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے ایم کیوایم مخالف بیان پرمتحدہ قومی موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہو ا، جب کہ دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کی جمعیت علماء اسلام نے اپنے ایک وزیر کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف احتجاجاً پیپلزپارٹی کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔

دو روز قبل ایم کیوایم نے وفاقی کابینہ سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے دو وزراء کے استعفے وزیر اعظم کو بجھوا دیے ہیں جب کہ ایک روز قبل جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کی طرف سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی برطرفی کا مطالبہ بھی کیا۔

مولانافضل الرحمن کے اس مطالبے کا جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا کہ یوسف رضا گیلا نی موجودہ پارلیمنٹ کے متفقہ وزیراعظم ہیں اوراس بارے میں دو رائے نہیں ہیں۔

پیپلز پارٹی کے اپنی حلیف جماعتوں سے رابطے جاری ہیں اور صدر آصف علی زرداری کراچی میں ہیں جہاں اُنھوں نے ایک روزقبل سندھ کے گورنر عشرت العباد سے بھی ملاقات کی جب کہ بدھ کی صبح وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے جمعیت علماء اسلام کے امیر فضل الرحمن سے ملاقات کر کے اُن کے خدشات دور کرنے کی کو شش کی۔

XS
SM
MD
LG