رسائی کے لنکس

شہباز شریف کے بیان پر پیپلز پارٹی کی تنقید جاری

  • افضل رحمن

متحدہ قومی موومنٹ نے اتوار کو صدر سے متعلق نازیبا الفاظ کے استعمال کے خلاف احتاجی ریلی کا اعلان کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے اتوار کو صدر سے متعلق نازیبا الفاظ کے استعمال کے خلاف احتاجی ریلی کا اعلان کیا ہے۔

لاہور میں ہونے والی مسلم لیگ ن کی احتجاجی ریلی میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی تقریر کو پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ ہفتہ کے روز بھی جاری رہا۔

شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ صدر آصف زرداری مستعفی ہو جائیں ورنہ عوام بھی ان کا محاسبہ کریں گے اور پارلیمنٹ بھی۔

پیپلز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری جہانگیر بدر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ مسلم لیگ ن کی ریلی میں صدر پاکستان کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی وہ غیر اخلاقی اور غیر جمہوری تھی۔’’ان کی بولی جانے والی زبان اس سے جھلکتے ارادے جو ہیں یہ پاکستان کی جمہوریت کے لیے خطرہ ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی اس کی محافظ ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ماضی میں بھی اس کی حفاظت کی اور آئندہ بھی پاکستان کو اکٹھا رکھنے کے لیے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔‘‘

دریں اثناء مرکز اور صوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ نے مسلم لیگ ن کی احتجاجی ریلی میں صدر پاکستان کے بارے میں استعمال کی جانے والی زبان کو نازیبا قرار دیتے ہوئے اتوار کے روز اس کے خلاف کراچی میں ایک احتجاجی ریلی منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس پس منظر میں سندھ میں جلسے جلوسوں پر عائد پابندی میں توسیع کو بھی صوبائی وزیرداخلہ نے دو روز بعد یعنی 31 اکتوبر سے نافذ العمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لاہور میں بھی سیاسی گرماگرمی کا ماحول تاحال قائم ہے اور اتوار ہی کو پاکستان تحریک انصاف لاہور کے مینار پاکستان پر ایک جلسہ عام منعقد کررہی ہے جس کے لیے یہ جماعت کئی ہفتوں سے تیاریوں میں مصروف تھی۔

اس جماعت کے چیئر مین عمران خان کا کہنا ہے کہ اتوار کو مینار پاکستان پر ہونے والا جلسہ ان کے بقول ملک کے مستقبل کی سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔

XS
SM
MD
LG