رسائی کے لنکس

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا روایتی سیاسی دنگل شروع


پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا روایتی سیاسی دنگل شروع

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا روایتی سیاسی دنگل شروع

پاکستان کی حکمران پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور اپوزیشن مسلم لیگ (ن) کےدرمیان تند و تیز اور جارحانہ بیانات کے حالیہ تبادلوں کے بعد ملک کا کشیدہ سیاسی ماحول بظاہرایک بار پھر 1990ء کی دہائی کا منظر پیش کر رہا ہے جب ان دو بڑی حریف جماعتوں کی تمام تر سیاست کا محورایک دوسرے کو نیچا دیکھانا اوراقتدار سے ہٹانا تھا۔

پی پی پی کی مخلوط حکومت خاص طور پر پارٹی کے سربراہ اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری پر مسلم لیگی رہنماؤں کی تنقید روز کا معمول بن چکی ہے، جس میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

لیکن جمعہ کو لاہور میں کارکنوں کے ایک جلسے سے خطاب میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے صدر زرداری کو ’’الٹا لٹکانے‘‘ سمیت جو سخت جملے کہے اُس نے سیاسی ماحول کو بہت زیادہ کشیدہ کر دیا۔

پی پی پی کے قائدین ملک کے صدر کے خلاف ’’انتہائی نازیبا زبان‘‘ استعمال کرنے پر مسلم لیگ (ن) بالخصوص شہباز شریف پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔ ہفتہ کی شب پیپلز پارٹی کے زیر اقتدار صوبہ سندھ کے مختلف شہروں اور قصبوں میں اپوزیشن جماعت کے دفاتر کو نظر آتش کرنے کی اطلاعات بھی ملیں ہیں۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے آسٹریلیا کے دورے کے دوران موقع ملتے ہی مسلم لیگی قیادت کو جوابی تنقید کا نشانہ بنانے کا موقع ہاتھ سے جانے نا دیا اور اپوزیشن کے احتجاج کو ملک میں جمہوریت کے خلاف مہم قرار دیا۔

’’میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ لوگوں کو گمراہ نہ کریں۔ آپ کچھ نہیں کر سکتے، آپ کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے، آپ کے پاس کوئی پروگرام نہیں ہے، آپ نے کوئی کام کیا ہی نہیں ہے اور آپ صرف اور صرف آمریت چاہتے ہیں۔‘‘

وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے تو صدرِ پاکستان کے خلاف ’’غیر مہذب‘‘ الفاظ استعال کرنے پر شہباز شریف کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت آئین سےغداری کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔

سندھ اور مرکز میں پی پی پی کی اتحادی جماعت ایم کیوایم نے اتوار کو کراچی میں صدر آصف علی زرداری کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک جلسہ کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ عام انتخابات کا انتظار کرے اور اگر عوام اُن کا ساتھ دیں تو وہ اپنی حکومت قائم کریں۔

’’لیکن غیر جمہوری ہتھکنڈے اور آمرانہ طرز عمل اختیار کرنا، اس کی پاکستان کے عوام کبھی اجازت نہیں دیں گے۔‘‘

لیکن پنجاب کے وزیراعلیٰ نے اپنے تنقیدی بیان کا سلسلہ اتوار کو بھی جاری رکھا۔ ’’ عوام کا پیسہ لوٹ کر سوئٹزر لینڈ اور اپنے اُن گھروں میں بھیجوایا گیا ہے جہاں پر یہ اپنا بستر گول کر کے بریف کیس لے جانا چاہتے ہیں۔ یہ اٹھارہ کروڑ عوام تمام ائیر پورٹس کی ناکہ بندی کریں گے اور آپ کا ہاتھ ہو گا ان کا گریبان ہوگا۔ ہر بازار مصر کی طرح ’التحریر چوک‘ ہوگا۔‘‘

ملک کی دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں اور حامیوں نے 2008ء کے انتخابات کے بعد اپنی زیادہ تر توانائیاں یہ بیانات دینے پر صرف کی ہیں کہ ماضی کی تلخ سیاست اور دشمنی کو بھلا کر اب وہ پاکستان میں ایک شائستہ سیاسی کلچر کو فروغ دینےکی پالیسی پر گامزن ہیں۔

لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ مفاہمت کی سیاست کو پروان چڑھانے کے ان ظاہری دعوؤں کے اگر کوئی اچھے اثرات ہوئے بھی تھے تو وہ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے رہنماؤں کے حالیہ لب و لہجے نے یقیناً زائل کر دیے ہیں۔

انگریزی روزنامہ ڈان نے اتوار کو اپنے اداریے میں اس صورت حال کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔ ’’ایک ایسا ملک جہاں عوام کو درپیش حقیقی مسائل عمومی طور پر اُن کے رہنماؤں کی ’گھٹیا‘ جذباتی اور انتقامی تماشوں کی نظر ہوجاتے ہیں، مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے درمیان حالیہ تلخیاں پاکستان میں مستقبل کی سیاست کی کوئی اچھی جھلکی نہیں ہے۔‘‘

مسلم لیگ (ن) کی طرف سے حکومت مخالف احتجاج میں شدت کی وجہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہیں جب پی پی پی کا ایوان بالا میں نمایاں اکثریت حاصل کرنا یقینی ہے جس سے دونوں ایوانوں میں حکومت کے لیے اپنے آخری سال کے دوران اہم امور پر قانون سازی کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔

XS
SM
MD
LG