رسائی کے لنکس

کل کا ’مجبور‘ وزیر بجلی و پانی؟

  • کراچی

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف

اُن کی دانشمندی کی حالیہ مثال کوئٹہ میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں سے کامیاب مذاکرات ہیں، جن کے بعد انہوں نے تمام تر مخالفت کے باوجود مطالبات تسلیم کر کے بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ کیا

رینٹل پاور کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی ممکنہ گرفتاری کی خبروں سےپاکستان میں سیاسی صورتحال غیر یقینی ہوگئی ہے۔

منگل کے روز، اس خبر کا ملک بھر میں ملاجلا رد عمل دیکھنے کو ملا۔ تاہم، بدھ کو صورتحال مختلف تھی۔ جو بے چینی منگل کی شام کو ملک بھر میں اور خاص کر ٹی وی اسکرینز پر نظر آرہی تھی آج اس میں آپ ہی آپ کمی آگئی۔

آنے والے دنوں میں کیا ہوگا اور یہ کیس کیا صورتحال اختیار کرے گا؟ تجزیہ کاروں کی نظر میں، یہ بتانا تو ابھی بہت مشکل ہے۔ تاہم، وزیر اعظم کی چھ ماہ کی کارکردگی پر نظر ڈالیں تو واضح ہوتا ہے کہ کئی ایسے مسئلے جو عرصے سے حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے ، وزیر اعظم نے انہیں چٹکی بجاتے حل کرلیا۔ مثلاً سوئز حکام کو خط لکھنے کا معاملہ ۔

وزارت عظمیٰ کے 6ماہ 24دن

راجہ پرویز اشرف نے چھ ماہ اور 24 روز قبل ایسے حالات میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا جب سپریم کورٹ میں زیر سماعت این آر او عملدرآمد کیس میں ان سے پہلے سید یوسف رضا گیلانی اس عہدے سے ہاتھ دھو چکے تھے اور یہ تاثر عام تھا کہ وہ بھی چنددنوں کے مہمان ہیں لیکن راجہ پرویز اشرف کی حکمت عملی نے سب کو حیران کر دیا۔

راجہ پرویز اشرف اس کیس میں 27 اگست اور پھر25 ستمبر 2012ء کو عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو نہ صرف مطمئن کیا بلکہ سپریم کورٹ کے حکم پر خط بھی لکھ دیا۔اس سلسلے میں، وزیراعظم کو ایک ساتھ کئی محاذ پر لڑنا تھا۔انہوں نے کامیابی سے سپریم کورٹ ،اتحادی جماعتوں اورپیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنان کو اس سلسلے میں اعتماد میں لیاجو شاید یوسف رضا گیلانی نہ کر سکے تھے۔

وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد ان پر رینٹل پاور کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے 30مارچ2012ء کے فیصلے پر شدید تنقید کی گئی۔ تاہم، اس کے جواب میں ان کا رویہ انتہائی متاثر کن رہا۔

راجہ پرویز اشرف نے اپوزیشن سے بھی تعلقات استوار کیے جو یوسف رضا گیلانی کے دور میں تقریباً ’پوائنٹ آف نو ریٹرن‘ پر پہنچ چکے تھے اور نگراں حکومت کے قیام کیلئے ہر گزرتے دن کے ساتھ ماحول ساز گار ہوتا جا رہاتھا۔

اُن کی دانشمندی کی حالیہ مثال کوئٹہ میں دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں سے کامیاب مذاکرات ہیں جن کے بعد انہوں نے تمام تر مخالفت کے باوجود مطالبات تسلیم کر کے بلوچستان میں گورنر راج کا نفاذ کیا۔

سیاسی تجزیات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اِس محاذ پر بھی وزیراعظم نے اکیلے فیصلہ نہیں کیا۔ بلکہ، نہ صرف اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا بلکہ اپوزیشن جماعتون کے رہنماوٴں مسلم لیگ ن کے قائدین نواز شریف ، مولانا فضل الرحمن سمیت دیگر رہنماوٴں سے بھی رابطہ کیا اور انہیں اعتماد میں لیا۔اس کے علاوہ بھی وہ اپنے بیانات میں انتہائی محتاط نظر آئے۔

لیکن، اس تمام صورتحال کے باوجود کئی ایسے معاملات بھی ہیں جن کے سبب راجہ پرویز اشرف کو دوسروں پر’ برتری ‘حاصل رہے گی مثلاً وزیر بجلی و پانی کی حیثیت سے انہوں نے ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کی کئی تاریخیں دیں لیکن ہر بار انہیں ناکامی ہی ملی۔ چونکہ لوڈ شیڈنگ گرمیوں میں سب سے بڑا عوامی مسئلہ ہوتی ہے لہذا لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں ناکامی پر سب سے زیادہ
’عوامی غصے‘ کا بھی انہیں ہی سامنا کرنا پڑا۔

شایدوزیراعظم بننا ان کے لئے اسی غصے کو برداشت کرنے کا انعام تھا ۔ وہ اس حوالے سے خوش قسمت ثابت ہوئے ۔ اگر وہ وزیراعظم نہ بنتے تو توانائی کے جاری بحران کے سبب کبھی بھی اس قدر ستائشی نظروں سے نہ دیکھے جاتے جس قدر اب دیکھے جاتے ہیں۔ بقول شخصے، وہ کبھی ’مجبور وزیربجلی و پانی‘ تھے مگر اب وہ ایک کامیاب وزیر اعظم ہیں، جن کے سر پر خوش بختی نے بسیرا کیا ہوا ہے۔ اس صورتحال میں اگر انہیں گرفتار بھی کرلیا گیا تب بھی شاید انہیں آسانی سے نہ بھلایا جاسکے۔
XS
SM
MD
LG