رسائی کے لنکس

حالیہ انتخابات کے نتائج ملکی سیاست کا رخ بدلنے لگے ہیں ۔ یہ نتائج ناقص کارکردگی دکھانے والی سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھے

گیارہ مئی کے عام انتخابات اور خاص کر اس کے نتائج نے تقریباً تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کئی جماعتیں تو ایسی ہیں جن کا بالکل ہی صفایا ہوگیا ہے۔ مثلاً، اے این پی۔ جبکہ، کچھ جماعتیں ایسی ہیں جنہیں اپنے ہی سیاسی قلعوں میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا،مثلاً ایم کیو ایم کو کراچی میں اور پیپلز پارٹی کو اندرون سندھ۔

انتخابی نتائج کے بعد، وی او اے کے نمائندے نے مختلف سیاسی کارکنوں، تجزیہ کاروں اور مبصرین کے خیالات سنے۔ اس تبادلہٴخیال کے نتیجے میں جو مختلف پہلو سامنے آئے وہی زیرنظر تجزیئے میں پیش کئے جا رہے ہیں۔

تجریہ نگاروں کی اکثریت نے تسلیم کیا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج ملکی سیاست کا رخ بدلنے لگے ہیں۔ یہ نتائج ناقص کارکردگی دکھانے والی سیاسی جماعتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھے۔

سیاسی جمود ٹوٹ گیا
ایک سیاسی جماعت کے دیرینہ ہمدرد اور سینئر صحافی و تجزیہ نگار ساجد عزیز کا کہنا ہے کہ، ’حالیہ انتخابات اور گزشتہ ادوار کے انتخابات میں جو سب سے بڑا فرق نظر آرہا ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کی دھواں دار انٹری ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں گزشتہ کئی دہائیوں کے روایتی نتائج پاش پاش ہو گئے۔ تحریک انصاف نے پنجاب کی دوسری اور خیبر پختونخوا کی سب سے بڑی جماعت بن کر ایک جانب پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کردیا، تو وہیں مسلم لیگ ق اور عوامی نیشنل پارٹی بھی سیاسی نقشے سے دور ہوتی نظر آرہی ہیں۔ ماضی اندرون سندھ پی پی کا ہی ووٹ بینک ہوا کرتا تھا۔ لیکن، اس بار اسے کم از کم 10 قوم پرست جماعتوں سے سخت مزاحمت کا سامنا تھا۔ ’مرے پہ سو درے‘ یہ کہ اِس بار پی پی کے پاس کوئی ’’بھٹو بھی نہیں تھا‘‘۔

ایم کیو ایم کے لئے خطرے کی گھنٹی
گیارہ مئی کے انتخابات نے سب سے بڑے شہر کراچی کی منجمد سیاست کو بھی جنجھوڑ کر رکھ دیا ۔اگرچہ، شہر کے سیاسی پس منظر میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی، لیکن تین دہائیوں کے بعد بھرپور مقابلے کی فضا نظر آئی۔ اس کے باوجود کہ پی ٹی آئی کراچی میں ایک بھی جلسہ نہیں کرسکی، قومی اسمبلی کے حلقے این اے 245 نارتھ ناظم آباد سے پی ٹی آئی کے امیدوار ریاض حیدر کو شکست کے باوجود 54 ہزار ووٹ ملے۔

این اے 246کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں تھی۔ یہاں پی ٹی آئی کے امیدوار امیر شرجیل کو32ہزار اورین اے 243نارتھ کراچی اور نیوکراچی سے زاہد حسین کو تیس ہزار ووٹ ملے۔

اسی طرح، پی ٹی آئی کے راشد صدیقی نے لیاقت آباد میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے-247 سے 35 ہزار سے زیادہ ووٹ حاصل کیے۔ جبکہ، محمود آباد کے حلقہ این اے-251 سے پی ٹی آئی کے امیدوار راجہ اظہر کو تقریباً انتالیس ہزار ووٹ پڑے۔

صوبائی نشستوں پر بھی پی ٹی آئی کے امیدواروں کو اس بار حیران کُن طور پر ہزاروں کی تعداد میں ووٹ ملے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ یہ اعداد و شمار اس جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ ایم کیو ایم کا مضبوط ترین قلعہ سمجھے جانے والے شہر کراچی میں پی ٹی آئی کو اتنے ووٹ ملنا اس جانب واضح اشارہ ہے کہ کراچی میں ایم کیو ایم کو آنے والے وقتوں میں سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ، ’بازی پلٹ بھی سکتی ہے‘۔

کراچی کا حلقہ این اے 250 زیادہ تر پوش علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں کے ووٹر کو چونکہ عام آدمی جیسے مسائل کا سامنا نہیں۔ لہذا، وہ ووٹ ڈالنے کم ہی نکلتے ہیں۔ لیکن، اس بار کمال ہوگیا۔ اُن علاقوں میں بڑی تعداد میں ووٹرز نہ صرف گھروں سے نکلے بلکہ انہوں نے کئی کئی گھنٹے لائنوں میں کھڑے ہو کر اپنی باری کا انتظار کیا۔ اس کے باوجود، جو لوگ تاخیر سے پہنچنے اور بے ضابطگی یا مبینہ طور پر دھاندلی کے سبب ووٹ کاسٹ نہ کر سکے، انہوں نے اس کے خلاف سخت احتجاج کیا۔ اسی احتجاج کے سبب، الیکشن کمیشن نے 19مئی کو یہاں دوبارہ پولنگ کے احکامات جاری کئے۔ حلقے کے 43پولنگ اسٹیشنز پر اتوار کو دوبارہ پولنگ ہوگی۔

پیپلز پارٹی کو سخت مزاحمت کا سامنا
اندرون سندھ کی صورتحال بھی کراچی سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ اگر چہ وہاں پیپلزپارٹی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اکثریتی جماعت کی حیثیت سے جیت تو گئی، تاہم اسے پہلی بار اتنی سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ حالات نے سندھ پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی سے متعلق بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔

فاتح جماعتوں کا کڑا امتحان
تجزیہ نگاروں اور سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ مسلم لیگ ن کے لئے انتخابات میں کامیابی کسی بھی طرح پھولوں کی سیج ثابت نہیں ہوگی۔ آنے والے دنوں میں ن لیگ کی حکومت کو لوڈ شیڈنگ، معاشی بدحالی، مہنگائی اور بے روز گاری جیسے بہت سارے سنگین اور دیرینہ مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر گزشتہ دور کی طرح آنے والی حکومت بھی ان مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی تو پھر ن لیگ کو پیپلز پارٹی سے بھی زیادہ بری صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG