رسائی کے لنکس

سینئیر صحافی زاہد حسین کہتے ہیں کہ بظاہر نواز انتظامیہ کے لیے آپشنز ختم ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کی کسی نا کسی قسم کی مداخلت ممکن ہے۔

دارالحکومت اسلام آباد میں تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس میں تصادم کے بعد ملک کی سیاسی صورتحال سنگین رخ اختیار کرچکی ہے اور بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ بظاہر نواز شرییف انتظامیہ کی واقعات اور معاملات پر سے گرفت کمزور ہوتی جارہی ہے۔

ایک طرف تو مظاہرہ کرنے والے سیاسی قائدین اپنا احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کررہے ہیں تو دوسری جانب حکومت میں شامل عہدیداروں نے ریاستی عمارات پر ان کے بقول قبضہ کرنے کی کوششوں کو طاقت کے ذریعے روکنے کے اعلانات کیے ہیں۔

ملک کی دیگر سیاسی جماعتیں دونوں فریقین کو تشدد کے راستے کو ترک کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر معاملات کو حل کرنے کی درخواستیں کررہی ہیں۔

سیاسی و دفاعی مبصر حسن عسکری رضوی نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی طرف سے تشدد کی کارروائیاں بند کیے بغیر حالات میں بہتری ممکن نہیں۔

’’حکومت کی حکمت عملی یہ تھی کہ معاملے کو دھیمے دھمیے چلایا جائے تاکہ کارکن تھک کر اپنے قائدین کو چھوڑ جائیں۔ دوسری طرف عمران خان و طاہرالقادری کا خیال تھا کہ پولیس نہیں روکے گی اور وہ وہاں پہنچ جائیں گے۔ حکومت کو اس حقیقت کو ماننا پڑے گا کہ اچھی خاصی مخالفت موجود ہے اور ان کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔‘‘

نواز شریف انتظامیہ اور احتجاج کرنے والی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان گزشتہ دنوں میں مذاکرات کے متعدد دور ہوئے اور دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ کرنے کے دعوے بھی کیے گئے۔

تاہم وزیراعظم نواز شریف کے استعفے پر دونوں فریقین میں ڈیڈلاک قائم رہا جس کے بعد ہفتے کو رات گئے حکومت پر دباؤ بڑھانے کی غرض سے تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے اپنے قائدین کے اعلانات پر وزیراعظم ہاؤس کی طرف مارچ شروع کیا۔

جمعرات کو رات گئے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری سے ملاقات کے بعد وزیراعظم نے جمعے کو قومی اسمبلی میں بیان دیا کہ انہوں نے فوج کو کسی ثالثی کا کردار ادا کرنے کا نہیں کہا۔

تاہم چند گھنٹوں کے بعد فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں کہا کہ وزیراعظم نے اہنی ملاقات میں جنرل راحیل کو سہولت کار کا کردار ادا کرنے کا کہا تھا۔

سینئیر صحافی زاہد حسین کہتے ہیں کہ بظاہر نواز انتظامیہ کے لیے آپشنز ختم ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کی کسی نا کسی قسم کی مداخلت ممکن ہے۔

’’پہلے مذاکرات کا راستہ تھا۔ اب تشدد ہوگیا تو اسے ختم کرنے کا راستہ حکومت کے پاس نظر نہیں آتا۔ پہلے لگتا تھا کہ وہ سیاسی طور پر مضبوط ہے مگر اب سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو کنارے کی طرف کررہے ہیں پھر فوج جو کہ ریاست کا اہم جز ہے وہ ایک طرف بیٹھ کر جائزہ لے رہی ہے۔‘‘

وزیراعظم نواز شریف اتوار کو لاہور سے اسلام آباد آئے جہاں چند وفاقی وزرا اور پارٹی کے سینئیر عہدیداروں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس کی سربراہی کی۔ ادھر راولپنڈی میں فوج کے کور کمانڈرز کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جس میں توقع کی جارہی ہے کہ مظاہروں سے پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG