رسائی کے لنکس

برما کی بجائے پاکستانی اقلیتوں کی حالتِ زار پر توجہ دینے کا مشورہ

  • ج
  • اسلام آباد

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں ہوا۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اُمور خارجہ کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں ہوا۔

سینیٹر مصطفٰی کمال نے کہا کہ اگر حکومت نے برما کے حالات کو اجاگر کرنے میں سرگرمی دیکھائی تو ممکن ہے ملک کی اندرونی صورت حال کے تناظر میں خود پاکستان پر تنقید میں اضافہ ہو جائے۔

پاکستان میں پیپلز پارٹی کی زیرِ قیادت حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے اراکینِ پارلیمان نے حکومت کو برما میں مسلمانوں کے خلاف ’’قابل مذمت‘‘ پُرتشدد واقعات کو بڑھ چڑھ کر اُجاگر کرنے کی بجائے اپنے ہاں اقلیتوں کی حالت زار پر توجہ دینے کا مشورہ دیا ہے۔

میانمر (برما) میں مسلمان اقلیت کے خلاف بدھ مت کے پیرو کارروں اور سرکاری فوج کے اہلکاروں کی پُرتشدد کارروائیوں کا معاملہ بدھ کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کی قائمہ کیمٹی برائے اُمور خارجہ کے ایک اجلاس میں زیر بحث آیا۔

برمی مسلمانوں کے قتل عام اور خواتین کی بے حرمتی سمیت دیگر ایسی کارروائیوں پر اجلاس میں ’’سخت غم و غصے‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا۔

مگر اجلاس میں اپنا نکتہ نظر پیش کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے سینیٹر مصطفٰی کمال نے کہا کہ برما میں مسلمان اقلیت کے خلاف مظالم قابل مذمت ہیں لیکن اگر حکومت نے اس معاملےکو اجاگر کرنے میں سرگرمی دکھائی تو ممکن ہےعالمی برادری اندرونی طور پر درپیش ایسے مسائل پر توجہ دینے کے لیے خود پاکستان پر تنقید میں اضافہ کر دے۔

سینیٹر کمال کا اشارہ شیعہ برادری کے خلاف مہلک حملوں میں حالیہ اضافے،انتہا پسندوں کی جانب سے ہندوؤں کو زبردستی مسلمان کرنے اور توہین اسلام کے جرم میں ایک کمسن عیسائی لڑکی کی گرفتاری جیسے حالیہ واقعات کی طرف تھا۔
ہمارے ہاں عدم برداشت کے رویے میں شدت آئی ہے اور علمائے دین نے اس کے تدارک کے لیے اپنا کردار اس طرح نہیں نبھایا جس طرح نبھایا جانا چاہیئے۔


اجلاس میں موجود وزیرِ مملکت برائے اُمور خارجہ ملک عماد خان نے کہا کہ حکومت اخلاقی طور پرمیانمر کے مسلمانوں کی حمایت کر رہی ہے۔

میانمر میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد کارروائیاں پاکستانی پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے بدھ کو ہونے والے اجلاس کا موضوع بھی تھیں۔

اجلاس میں اُن سرکاری اقدامات کی تفصیلات پر مشتمل ایک دستاویز بھی پیش کی گئی جو میانمر کے راکین صوبے میں روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام کو روکنے کے سلسلے میں اب تک حکومتِ پاکستان نے کیے ہیں۔

’’میانمر کے لیے پاکستان کے سفیر دیگر سفارتی برادری کے ساتھ 31 اگست سے یکم ستمبر تک ریاست راکین کا دورہ کریں گے تاکہ وہ خطے کی صورت حال کا خود جائزہ لے سکیں۔‘‘

اجلاس کے بعد کمیٹی کے سربراہ ریاض فتیانہ نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ملک میں بالخصوص اقلیتوں کے حقوق کی پامالی پر تشویش کا اظہار کیا۔

’’ہمارے ہاں عدم برداشت کے رویے میں شدت آئی ہے اور علمائے دین نے اس کے تدارک کے لیے اپنا کردار اس طرح نہیں نبھایا جس طرح نبھایا جانا چاہیئے تھا۔‘‘

پیپلز پارٹی کی اتحادی اور خیبر پختوان خواہ میں حکمران عوامی نیشنل پارٹی کی رکن قومی اسمبلی جمیلہ گیلانی نے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عیسائی اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات تقاضا کرتے ہیں کہ حکومت کو تمام تر توجہ ان پاکستانی شہریوں کی حالت زار کو بہتر کرنے پر دینی چاہیئے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل اور دیگر عالمی تنظیموں نے تصدیق کی ہے کہ جون میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے میانمر کی سکیورٹی فورسز نے بلووں میں ملوث بدھ مت کے پیرو کاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے روہنگیائی مسلمانوں کو ہدف بنایا اور سینکڑوں غیر قانونی گرفتاریاں بھی کی گئیں۔

ان تنظیموں نے تصدیق کی ہے کہ لسانی فسادات کے دوران مسلمانوں کو قتل، ان کی خواتین کی آبرو ریزی اور املاک کو تباہ کیا گیا۔ اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق 50 سے 90 ہزار مسلمان ان فسادات کے دوران بے گھر ہوئے۔
XS
SM
MD
LG